امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں ایران کو کوئي مشکل نہیں ہے جبکہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف  نے روسی خبررساں ایجنسی اسپوٹنک کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں ایران کو کوئي مشکل نہیں ہے جبکہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مہر کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اسپوٹنک کے ساتھ گفتگو میں امریکہ کی موجودہ حکومت کو باغی ، قانون شکن اور نسل پرست حکومت قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی قوانین کو توڑ کرعالمی امن و سلامتی کے لئے خطرات پیدا کررہا ہے۔ ایرانی وزير خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کی نیابت میں علاقہ میں جنگ اور خونریزی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سعودیہ کو  امریکہ و اسرائیل کے بجائے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔  مہر کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب امریکی نیابت میں جنگ لڑ رہا ہے جبکہ امریکہ کبھی بھی سعودی عرب کی خاطر جنگ نہیں کرےگا۔  سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کا تعاون کرنے کے بجائے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے تعلقات ترکی، قطر، شام، ایران ، عراق، لیبیا، یمن اور کئی دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ خراب ہیں لہذا سعودی حکام کو امریکہ اور اسرائیل کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے ہمسایہ اور علاقائی اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔

جواد ظریف نے عالمی سطح پر امریکی منہ زوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگیا اور اب وہ اس معاہدے کے بارے میں بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ، امریکہ نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کو نقض کیا ہے ۔امریکی حکومت ایک قانون شکن حکومت ہے جو عالمی امن و سلامتی کے لئے خطرات پیدا کررہی ہے۔

News Code 1901771

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =