سعودی عرب کی معیشت تباہی اور بربادی کا شکار

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنانے والے سعودی عرب کو آج خود معاشی تباہی اور بربادی کا سامنا ہے کورونا وائرس کے پھیلاؤ ، حج کی منسوخی ، یمن پر مسلط کردہ جنگ اور تیل کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کو آج بڑی تباہی اور بربادی کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنانے والے سعودی عرب کی معیشت آج خود تباہی اور بربادی کا شکارہے کورونا وائرس کے پھیلاؤ ، حج کی منسوخی ، یمن پر مسلط کردہ جنگ اور تیل کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کو آج بہت بڑی تباہی اور بربادی کا سامنا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف  یمن جنگ کے دلدل میں بری طرح پھنسا ہواہے ۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں سعودی عرب کی فتح کے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب یمن میں اپنے ناپاک اور مذموم اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ عرب اور اسلامی  ممالک میں سعودی عرب کی اہمیت ختم ہوگئی ہے، ترکی اور قطر کےساتھ سعودی عرب کی عداوت اور دشمنی کا سلسلہ جاری ہے ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب لیبیا جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔  ادھر یمنی عوام کی استقامت اور پائداری نے یمن پر سعودیہ کی مسلط کردہ جنگ میں سعودی عرب کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔ سعودی عرب کے اتحاد میں اختلاف اور پھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ قطر سعودی عرب کے فوجی اتحاد سے خارج ہوگيا۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں سعودی عرب کو تاریخی شکست کا سامنا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اب اپنے آقا امریکہ سے درخواست کی ہے کہ جس طرح اس نے سعودی عرب کو یمن جنگ کی آگ میں دھکیلا ہے اب اسی طرح اس بے فائدہ جنگ سے اسے نکالنے کی کوشش کرے، یمن جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت پر بڑے  برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس نے بھی سعودی عرب کی معیشت پر کاری ضرب وارد کی ہے۔ ادھر انڈونیشیا اور ملائشیا سمیت کئی اسلامی ممالک نے اس سال سعودی عرب میں حج کے مراسم میں شرکت کرنے کا پروگرام منسوخ کردیا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کو مزید بڑا دھچکہ لگا ہے۔ بہر حال چاہ کن را چاہ درپیش، سعودی عرب نے جو کنواں یمن اور ایران کے لئے کھودنے کی کوشش کی اس میں اب خود ہی گر کر دم توڑنے والا ہے۔ ادھر امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب صدقِ دل کے ساتھ یمن میں جاری تنازع کے ایک متفقہ حل تک پہنچنے کی کوششیں کر رہا ہے۔میکنزی نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف مڈل ایسٹ کو دیے گئے بیان میں کہی۔ امریکی جنرل کے مطابق سعودی عرب مطلوبہ مقصد کے حصول کی کوشش میں اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے ، یمن کے تنازع کے اختتام کیلئے سعودی عرب پوری دیانت داری سے کوشاں ہے۔ امریکی جنرل کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اب یمن جنگ کو جاری رکھنے کی پوزيشن میں نہیں  ہے یمن میں سعودی عرب کو تاریخی شکست کا سامنا ہے لہذا اب وہ صدق دل کے ساتھ جنگ کے خاتمہ کے لئے تیار ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ آج پہلے سے کہیں زیادہ قوی اور مضبوط بن گئي ہے اور وہ کسی بھی سطح کے مذاکرات میں اپنے شرائط کو منوانے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں سعودی عرب کا بھیانک چہرہ عالمی سطح پر نمایاں ہوگیا ہے اور سعودی عرب نے دنیا کے سامنے ثابت کردیا ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی بربریت اور یمن پر سعودی جارحیت میں کوئی فرق نہیں ہے اسرائیل نے فلسطینی بچوں ، عورتوں اور مردوں کا قتل عام کیا جبکہ سعودی عرب نے بھی یمن کے بے گناہ بچوں، عورتوں اور مردوں کو بہیمانہ طور پر قتل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔

News Code 1901047

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 4 =