مشترکہ ایٹمی معاہدے سے انحراف  قبول نہیں کریں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیوں کی تمدید کے سنگین نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے انحراف قبول نہیں کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیوں کی تمدید کے سنگین نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  مشترکہ ایٹمی معاہدے سے انحراف  قبول نہیں کریں گے۔ صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی جوہری معاہدے سے خارج  ہو کر تاریخی اور  نامعقول غلطی کی ہے۔

صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی صدرٹرمپ  کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ عالمی قوتوں کے جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار کرتے ہوئے معاہدے سے دستبردار ہو کر ایک ایسی غلطی کی جسے کسی بھی طرح معقول فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اگر امریکہ دوبارہ جوہری معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے تو پہلے ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں اٹھائے اور ایرانی کمپنیوں کو آزادانہ تجارت میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ پابندیاں ہٹانے سے پہلے امریکہ سے مذاکرات کا امکان نہیں۔

 صدر حسن روحانی نے امریکہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلحے کی خریدو فروخت کے حوالے سے ایران پر عائد پابندی میں توسیع کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔

واضح رہے کہ امریکہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کے دباؤ میں 2018 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو کر ایران پر شدید اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں، لیکن ایران بحمد اللہ امریکی پابندیوں کے باوجود ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

News Code 1899966

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 13 =