20 جولائی، 2026، 12:07 AM

امریکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کمزور بنانے میں ناکام رہا، امریکی سینیٹر

امریکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کمزور بنانے میں ناکام رہا، امریکی سینیٹر

امریکی سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ایرانی میزائل و ڈرون صلاحیت کو کمزور بنانے کے اعلان کردہ اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک وارنر نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ایرانی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مارک وارنر نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں سیکڑوں امریکی اہلکار شدید زخمی ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے یہ جنگ اپنی مرضی سے شروع کی، حالانکہ ان کے بقول ایران کی جانب سے کوئی فوری خطرہ موجود نہیں تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلان کردہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وارنر نے کہا کہ افزودہ یورینیم تک رسائی اور اسے منتقل کرنے کے لیے کم از کم 15 ہزار فوجیوں کی ضرورت ہوگی، لیکن ایسی کارروائی نہایت مشکل ہے کیونکہ ایرانی افواج مزاحمت کریں گی۔ اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکا 50 ہزار ڈالر مالیت کے ایرانی ڈرون مار گرانے کے لیے ڈھائی ملین ڈالر مالیت کے میزائل استعمال کر رہا ہے۔

امریکی سینیٹر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے بھی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

News ID 1940373

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha