امریکی انتخابی مہم میں دوبارہ روسی مداخلت کے الزامات

ڈونلڈ ٹرمپ اور روس نے امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے رواں سال امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں مداخلت کے الزام کو مسترد کردیا تھا ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور روس نے امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے رواں سال امریکہ میں ہونے والے انتخاب میں مداخلت کے الزام کو مسترد کردیا جبکہ ڈیموکریٹس نے امریکی صدر پر جمہوریت کو دھوکہ دینے کا الزام لگا دیا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کے سربراہ جوزف ماگوئر نے قانون سازوں کو گزشتہ ہفتے بریفنگ میں امریکہ میں رواں سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت سے متعلق خبر دار کیا تھا۔

اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 19 فروری کو عہدے سے برطرف بھی کردیا تھا۔ ادھر امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے عوام کے سامنے بیان دیا تھا کہ 2016 کے انتخابات میں روس نے مداخلت کی تاہم جوزف ماگوئر کا کہنا تھا کہ ماسکو چاہتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ انتخابات میں کامیاب ہوں اور اس کے لیے وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمریز میں مداخلت کر رہا ہے۔ البتہ روسی مداخلت کے الزامات کو متعدد بار مسترد کرنے والے امریکی صدر نے نئے الزامات کو بھی مسترد کردیا تھا۔

ادھر ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ایسے ہیں جو مذموم اعلانات کی طرح ہیں جن میں انتخابات کے قریب آتے ہی اضافہ ہوجائے گا۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جولائی 2018 میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ماسکو انہیں اپنے حریف ہلری کلنٹن کے سامنے دوست سمجھتا ہے۔

اس کے علاوہ  ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ میولر کی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ روس نے ٹرمپ کی حمایت میں مداخلت کی تھی تاہم یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی مہم ماسکو سے ہی چلائی گئی تھی۔

News Code 1898058

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =