بھارتی نوجوان بھارتی وزیر اعظم مودی کے خلاف کھڑے ہوگئے

بھارت کی مختلف ریاستوں میں متنازع اور ظالمانہ قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اور بھارت کے عوام نے اپنے میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا ہے جبکہ جھاڑ کھنڈ کے ایک نوجوان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جھوٹا قراردیتے ہوئے کھری کھری باتیں سنادی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں متنازع اور ظالمانہ قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اور بھارت کے عوام نے اپنے میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا ہے جبکہ جھاڑ کھنڈ کے ایک نوجوان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جھوٹا قراردیتے ہوئے  کھری کھری باتیں سنادی ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی مودی سرکار پر تنقیدکی بوچھاڑ کردی ہے، جبکہ ایک نظم میں متنازع قانون کی آڑ میں تعصب اور تقسیم کو مسترد کردیا۔

مودی مخالف نعروں کی گونج مظاہروں سے شادیوں تک بھی جا پہنچی ہے اور شادی کی تقریب میں دولہا و دلہن نے بھی مودی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شہریت کے متنازع بل کو مسترد کردیا ہے۔جھارکھنڈ کے ایک نوجوان نے نریندر مودی کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا کو تبصروں اور مودی کے گن گانے سے فرصت نہیں۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی نے مودی سرکار کے نام ایک نظم میں کہا کہ تمہیں ہمارے حقوق قدموں تلے روندنے کا حق کس نے دیا۔ بھارتی عوام نفرت، تقسیم اور تعصب کو مسترد کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں فل یونیفارم میں راکیش تیاگی نامی دہلی کے ایک پولیس افسر مظاہرین کو گولی مارنے کی کھلم کھلا دھمکیاں دیتے پائے گئے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے یونین منسٹر مختار عباس نقوی نے میرٹھ کے ایس پی اے این سنگھ کی پاکستان جاؤ دھمکی پر حکومت سے ان کے خلاف فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کسی کی جانب سے ہو منظور نہیں۔

News Code 1896603

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 14 =