بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کےخلاف مظاہروں میں اب تک 18 افراد شہید

بھارت کے مختلف شہروں میں شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،مظاہروں میں اب تک 18 افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نےبھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے مختلف شہروں میں شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے،مظاہروں میں اب تک 18 افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متنازع شہریت بل کے معاملے پر احتجاج کی وجہ سے شہید ہونے والوں کی تعداد 18ہو گئی ہے۔میڈیا رپوٹس کے مطابق میرٹھ میں 3، بجنور میں 2، ورانسی، فیروز آباد،کانپور اور سنبھل میں 4 مظاہرین کو بھارتی پولیس نے گولیاں مار کر شہید کردیا ، سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔چند روز قبل لکھنو میں ایک اور مینگلور میں 2 افراد کو گولی ماری گئی تھی جبکہ متنازع شہریت بل پر احتجاج کے دوران آسام میں اب تک 6 افرادکو شہید کیاجا چکا ہے۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شریک 4 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

News Code 1896364

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =