بابری مسجد کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد / فیصلہ میں تضاد

بابری مسجد کے بارے میں سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں، 5 ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بابری مسجد کے بارے میں سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے  کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں، 5 ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔ اطلاعات کے مطابق وکیل سنی وقف بورڈ ظفریاب جیلانی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں،5ایکڑزمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے،شریعت کے مطابق ہم اپنی مسجد کسی کو نہیں دے سکتے،ہمارا موقف نہیں سمجھا گیا ہمیں متبادل زمین نہیں چاہیے،عدالتی فیصلے کے فیصلے کی عزت کرتے ہیں، بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کر سکتے ہیں،اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے زمین ہندووں کو دینے اور بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا حکم دیا ہے۔

News Code 1895254

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 9 =