بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا حکم

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکمراں جماعت بی جے پی کو بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کو دینے کا حکم دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکمراں جماعت بی جے پی کو بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کو دینے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد سے متعلق فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مندرکو گرا کرتعمیرکی گئَی جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازعہ زمین کو تین حصوں میں بانٹںے کا فیصلہ غلط تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجن گوگوئی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ 1856 سے پہلے اس سر زمین پرکبھی بھی نمازادا کی گئی ہو جب کہ بابری مسجد جس ڈھانچے پرتعمیرکی گئی اسکا کوئی اسلامی پس منظرنہیں ہے۔ کیس کا فیصلہ ایمان اور یقین پرنہیں بلکہ دعووں پرکیا جاسکتا ہے۔ تاریخی بیانات ہندوؤں کے اس عقیدے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آیودھیارام کی جائے پیدائش تھی۔

 بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندورام چبوترہ، سیتا راسوئی کی پوجا کرتے تھے، ریکارڈ میں موجود شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متنازعہ اراضی ہندوؤں کی ملکیت تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کو تمام عقائد کو قبول کرنا چاہئے اورعبادت گزاروں کے عقیدوں کوقبول کرنا چاہئے۔ عدالت کوتوازن برقرار رکھنا چاہئے۔ ہندوآیودھیا کو رام کی جائے پیدائش سمجھتے ہیں، ان کے مذہبی جذبات ہیں، مسلمان اسے بابری مسجد کہتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ بھگوان رام کی پیدائش یہاں ہوئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ مسجد کی تعمیرکیلئے مسلمانوں کو5 ایکڑ کی زمین متبادل کے طور پر دی جائے گی۔  بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ علاقے میں اعتماد کی فضا قائم کرکے 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کرزمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا تنازع حل کرنے کے لیے ثالثی ٹیم تشکیل دی تھی۔ واضح رہے کہ بابری مسجد کے حوالے مسلمانوں کا موقف ہے کہ یہ سال 1528 سے موجود مذکوہ مقام پر قائم ہے جب کہ  ہندوؤں کا موقف ہے کہ یہ مندر صدیوں پہلے ممکنہ طور پر راجہ وکراما دتیا نے بنایا ہوگا جسے 1526 میں بابر نے یا پھر17 ویں صدی میں ممکنہ طورپراورنگزیب نے گرا دیا تھا۔

News Code 1895248

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =