پاکستان کا بھارت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان دفتر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی لیکن اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان دفتر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی لیکن اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران محمد فیصل نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو فوجی چھاوَنی بنادیا ہے، میڈیا اورانٹرنیٹ پر بھی پابندی لگارکھی ہے، کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور ادویات کی قلت ہے،کشمیری بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کررہےہیں، کشمیر میں اتنے لوگ گرفتار ہیں کہ جیلوں میں جگہ نہیں رہی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو رہا کیا جائے، بھارت دنیا کو گمراہ کرنا بند کرے، بھارت جومرضی کہتا رہے اس سےحقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ ریاست کشمیر کا ہے جس پر فیصلہ ہونا ہے۔ کشمیریوں کے جذبات جب تک نہیں دیکھے جائیں گے آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی دوطرفہ مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا، ہمیشہ دوطرفہ مذاکرات کی حمایت کی لیکن اب بھارت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مسئلہ کشمیر پرعالمی عدالت جانے سے متعلق مشاورت کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اجلاس میں جانے کے امکانات ہیں۔

News Code 1893333

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 3 =