بھارت میں ایوان بالا میں بھی ایک ساتھ  تین طلاق دینے پر سزا کا بل منظور

بھارت میں لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے بعد راجیا سبھا (ایوان بالا) سے بھی ایک ساتھ تین طلاقوں کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے بعد راجیا سبھا (ایوان بالا) سے بھی ایک ساتھ تین طلاقوں کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایوان بالا میں بل کے حق میں 84 ووٹ ڈالے گئے۔وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ایوان بالا سے باہر نکلتے ہوئے فتح کا نشان بنایا۔ یونین وزرا نے ایوان بالا سے بل منظور ہونے پر اسے " تاریخ دن " قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق شادی سے متعلق مسلمان خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بل 2019 میں لوک سبھا میں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے گزشتہ سال 21 جون کو پیش کیا تھا۔مذکورہ بل کے تحت ایک ہی وقت میں 3 مرتبہ طلاق دینا قابل سزا جرم ہے۔بل کے تحت ایک ساتھ تین طلاق دینے والے شخص کو 3 سال قید کی سزا ہوگی اور خاتون یا اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے شکایت درج کروانے پر جرم کو قابل سماعت قرار دیا جائے گا۔

News Code 1892570

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 9 =