الفجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر حملوں میں سعودی حکام اور مریم رجوی کا باہمی تعاون

الفجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے حملوں میں سعودی عرب کے حکام اور ضد انقلاب عناصر ملوث ہیں، سعودی عرب کے حکام اور مریم رجوی کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کی صوتی فائل منظر عام پر آگئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایران فرنٹ پیج کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ االفجیرہ میں  تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے حملوں میں سعودی عرب کے حکام  اور ضد انقلاب عناصر ملوث ہیں، سعودی عرب کے حکام اور مریم رجوی کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کی صوتی فائل منظر عام پر آگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضد انقلاب عناصر کے درمیان ہونے والی باہمی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ الفجیرہ  میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے حملے میں سعودی عرب اور منافقین ملوث ہیں۔

ایران میں سرگرم دہشت گرد گروہ اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ الفجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے حملوں میں سعودی عرب اور منافقین ملوث ہیں ۔ منافقین کی سائبر یونٹ کی ڈائریکٹر شہرام فاختہ اور  منافقین گروپ کے دوسرے رکن حسین داعی الاسلام کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے اشارے پر منافقین نے الفجیرہ دھماکوں کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کے سلسلے میں کوئي کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ شہرام فاختہ اور داعی الاسلام دونوں امریکہ میں مقیم ہیں ۔ شہرام فاختہ نے داعی الاسلام سے سوال سے سوال کیا کہ سعودی عرب نے دھماکوں کے نتائج کے بارے میں خواہر مریم رجوی کو فون کیا ہے ہم اس کے بارے میں انھیں کیا جواب دیں؟ ۔ حسین داعی الاسلام نے جواب دیا کہ انھیں کہہ دیں تیل بردار کشتیوں کی فائل سکیورٹی کونسل میں پہنچنے والی ہے۔منافقین کی اس صوتی فائل سے ثابت ہوتا ہے کہ الفجیرہ میں تیل بردار کشتیوں پر ہونے والے حملوں میں سعودی عرب اور منافقین براہ راست ملوث ہیں۔ البتہ انھوں نے اس واقعہ میں ایران کو ملوث کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہ گئے ۔ "چاہ کن را چاہ درپیش" ایران پر جھوٹے اور بے بنیاد الزام عائد کرنے خود اس گھناؤنی سازش میں پھنس گئے ہیں۔

News Code 1891580

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =