صدر روحانی کا افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کی فروخت کومتوقف کرنے کا فیصلہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کی فروخت کو متوقف کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج نہیں ہوگا ۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کی فروخت کو متوقف کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج نہیں ہوگا ۔صدر حسن روحانی نے یہ اقدام  امریکہ کی طرف سے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے کے ایک سال بعد  اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایرانی عوام کے مفادات کے عدم حصول کے بعد اٹھایا ہے۔ صدر روحانی نے کہا کہ ایران مکمل طور پر مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج نہیں ہوگا البتہ اگر گروپ 1+4 نے مشترکہ  ایٹمی معاہدے میں کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا اور ایرانی قوم کے مفادات کو مد نظر نہ رکھا تو ایران بتدریج مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوجائےگا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ غیر قانونی طریقہ سے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگیا امریکہ کے خروج کو ایک سال ہوگیا ہے اور اس مدت میں ایران نے نہایت ہی صبر و تحمل سے کام لیا اور مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اب امریکہ نے ایران کے خلاف یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ آغازکردیا ہے جومشترکہ ایٹمی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی روح کے بالکل خلاف اور منافی ہیں اور امریکہ کی اس منہ زوری اور غیر قانونی اقدام کے خلاف سکیورٹی کونسل اور مشترکہ ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے والے ارکان نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ۔ لہذا ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے میں تعریف شدہ اصولوں کے مطابق  معاہدے کی بعض شقوں سے خارج ہونے کا فیصلہ کیا ہے جن میں یورینیم کی افزودگی اور آب سنگین کو محدود کرنے والی شقیں بھی شامل ہیں۔

ایران معاہدے میں باقی رہنے والے ممالک کو بھی 60 دن کی مہلت دیتا ہے کہ وہ بھی بینک اور تیل کے سلسلے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کریں  اور اگر انھوں نے معاہدے کے مطابق ایران کے ان مطالبات پر بھی عمل نہ کیا اورمشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایرانی قوم کے مفادات کو مد نظر  نہ رکھا تو ایران بتدریج اور مرحلہ وار مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوجائےگا۔اس سے قبل ایران نے ایک خط کے ذریعہ اپنے اس اہم اور قانونی فیصلے سے جرمنی، برطانیہ، روس اور چين کے سربراہان کو آگاہ کردیا تھا۔

News Code 1890354

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 15 =