سعودی عرب کے پہلے مبینہ جوہری پلانٹ کی تعمیر آخری مراحل میں

بلومبرگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پہلے مبینہ جوہری پلانٹ کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بلومبرگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پہلے مبینہ جوہری پلانٹ کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔

امریکی خبررساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گوگل کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا پہلا مبینہ جوہری پلانٹ تیاری کے آخری مراحل ہے لیکن سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے بغیر جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق گوگل ارتھ کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر کے مطابق یہ مبینہ جوہری پلانٹ سعودی دارالحکومت ریاض کے جنوب مغربی علاقے میں قائم شاہ عبدالعزیز سائنس و ٹیکنالوجی میں تعمیر کیا جارہا ہے۔ گوگل کی جانب سے جاری تصاویر میں مبینہ جوہری پلانٹ کی تعمیر کی تصدیق کی گئی ہے، اس میں ایک کنٹینر دکھایا گیا ہے جس میں جوہری ایندھن رکھا جائےگا۔

بلومبرگ کے مطابق مبینہ جوہری پلانٹ کی تیاری جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روک تھام کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ سعودی عرب نے اب تک دیگر جوہری طاقتوں کی طرح کسی عالمی قوانین کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ سویلین جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں ہورہے۔

News Code 1889429

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 3 =