نیا سال فرصتوں سے استفادہ کا سال /ایران کی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہے گی

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر مشہد مقدس میں حرم رضوی میں زائرین اور مجاورین کے ایک عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: نیا سال فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے اور رواں سال میں بھی ایران کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گي۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر مشہد مقدس میں حرم رضوی میں زائرین اور مجاورین کے ایک عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: نیا سال فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے اور رواں سال میں بھی ایران کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عید نوروز منانے والی تمام اقوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا: عید نوروز سے بہار کا آغازہوتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض افراد نئے سال کو خطرات کا سال قراردے رہے ہیں لیکن میں ان کی اس بات سے متفق نہیں ہوں نیا سال خطرات کا سال نہیں بلکہ فرصتوں سے استفادہ کا سال ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بعض لوگ کہتے تھے کہ اگر امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوگیا تو ایران میں شورش پیدا ہوجائے گی ۔ بعض نادانوں نے کہا کہ امریکہ سن 2019 میں تہران میں کریسمس کی تقریب منعقد کرےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ قائم کئے ہوئے ہے اور ہمیں اس کے اقتصادی دباؤ کو فرصت میں تبدیل کرنا چاہیے اور امریکی مکر و فریب اور اس کی دھمکیوں سے خوفزدہ  نہیں چاہیے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پابندیاں مواقع میں تبدیل ہو سکتی ہیں کیونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جن ملکوں کے پاس تیل جیسے قدرتی ذخائر موجود ہیں جب ان کی تیل کی آمدنی کم ہو جاتی ہے تو ان کے اندر وابستگی ختم کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ معاشی اصلاحات کی فکر کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ مقدس دفاع کے برسوں میں مشرقی اور مغربی دونوں سپر طاقتوں نے صدام حکومت کو بہترین جنگی وسائل فراہم کئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیاں تھیں اور حتی اس کو خار دار تاروں کی فروخت کی بھی اجازت نہیں تھی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جنگ کے زمانے میں سختیاں اس بات کا باعث بنیں کہ اغیار سے دفاعی وابستگی ختم کرنے کی فکر کی جائے اور آج فوجی اور دفاعی ساز وسامان اور وسائل کی تیاری کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن خطے کے سبھی ملکوں سے بہتر اور مستحکم تر ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ہم اغیار کے دباؤ کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے اور ملک کی دفاعی بنیادوں کی تقویت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ مغرب والوں سے سازش، خیانت اور پیچھے سے وار کی توقع تو رکھی جاسکتی ہے کسی مدد اور صداقت کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

آپ نے فرمایا کہ یورپ والوں نے ایران کے ساتھ مالیاتی چینل کے قیام کے بارے میں پچھلے دنوں جو باتیں کی ہیں وہ ایک تلخ مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مغربی سیاستداں حقیقت میں وحشی ہیں اور امریکا اور مغرب کے سیاستدانوں میں شرارت اور شطینت کوٹ کوٹ کے پائی جاتی ہے-

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نیوزی لینڈ کے حالیہ دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نیوزیلینڈ میں مسلمانوں کا حالیہ قتل عام ان کی نظر میں دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا تھی؟۔

آپ نے فرمایا کہ یورپ والے، ان کے سیاستداں اور  ان کے ذرائع ابلاغ عامہ کوئی بھی اس حملے کو دہشت گردی کہنے پر تیار نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کو مسلحانہ اقدام کہا۔

آپ نے فرمایا کہ دنیا میں  کہیں بھی مغرب کے کسی منظور نظر فرد کے خلاف کوئی اقدام ہو تو اس کو دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کہا جاتا ہے لیکن یہاں وضاحت کے ساتھ یہ نہیں کہتے کہ یہ دہشت گردی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سعودی حکومت کے بارے میں فرمایا کہ اس خطے میں اور شاید پوری دنیا میں سعودی حکومت جیسی بری کوئی اور حکومت نہیں ہے۔ یہ حکومت جابر بھی ہے، ڈکٹیٹر بھی ہے، بد عنوان بھی ہے، ظالم بھی ہے اور سامراجی طاقتوں سے وابستہ بھی ہے۔

News Code 1889045

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 6 =