برطانوی پارلیمنٹ میں" بریگزٹ " پر رائے شماری مؤخر

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی " بریگزٹ " پر رائے شماری مؤخر کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی " بریگزٹ " پر رائے شماری مؤخر کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی " بریگزٹ " پر رائے شماری موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی آئرش سرحد کا مسئلہ بدستور باعث تشویش ہے اور یورپی ممالک کے سربراہان سے معاہدے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ تھریسا مے نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے ہنگامی مذاکرات کریں گی جس میں سرحد  پرممکنہ تبدیلیوں پر بات چیت کی جائے گی۔

یورپی ملک جمہوریہ آئرلینڈ اور برطانوی وفاق میں شامل ریاست شمالی آئرلینڈ کے درمیان سرحد کا معاملہ بریگزٹ معاہدے کا اہم حصہ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ پر ووٹنگ میں شکست کا خطرہ ہے، کیونکہ بہت سے ارکان پارلیمنٹ برطانوی حکومت اور یورپی یونین کے مجوزہ معاہدے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ادھر یورپی یونین نے بریگزٹ معاہدے پر برطانیہ سے دوبارہ بات چیت سے صاف انکار کردیا ہے۔ کمشنر یورپی کمیشن جین کلاڈ جنکر نے کہا کہ بریگزیٹ ڈیل پر برطانیہ سے دوبارہ مذاکرات نہیں ہوں گے، ہمارے مطابق برطانیہ 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جائے گا۔واضح رہے کہ برطانیہ میں 23 جون 2016 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں 51 فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

News Code 1886358

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =