بحرین میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر پابندی کے باوجود انتخابات کا ڈھونگ

بحرین کی آل خلیفہ ڈکٹیٹر حکومت نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد نمائشی پارلیمانی انتخابات منعقد کروا رہی ہے جو جمہوری اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کی آل خلیفہ ڈکٹیٹر حکومت نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد نمائشی پارلیمانی انتخابات منعقد کروا رہی ہے۔ جو جمہوری اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

اطلاعات کے مطابق بحرین کی 2 سب سے بڑی اپوزیشن جماعتوں " الوفاق " اور سیکولر نظریات کی حامل " الوعد"  کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے روک دیا گیا جس کے بعد ان کی جانب سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا گیا۔

بحرین کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے ووٹنگ کا آغاز ہوا اور غیر معمولی طور پر رات 8 بجے تک جاری رہے گی، حکام کے مطابق انتخابات میں 41 خواتین سمیت 293 افراد حصہ لے رہے ہیں جبکہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے 2014 میں بھی ہونے والے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کردیا تھااور اسے ڈھونگ قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ 2011 سے اب تک بحرین کی ظالم و جابر امیرکہ نواز حکومت  سینکڑوں مخالفین کو حراست میں لے چکی ہے جس میں الوفاق کے سکریٹر جنرل شیخ علی سلمان سمیت شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ حکومتِ بحرین متعدد شہریوں کی شہریت بھی منسوخ کر چکی ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ انہیں بحرین میں سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے پر سخت تحفظات ہیں۔ ذرائع کے مطابق بحرین میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے جنھیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جاتا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کو بحرین کی ڈکٹیٹر حکومت پامال کررہی ہے۔

News Code 1885897

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 10 =