مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں زلزلے اور اس کے بعد سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کالا کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ زلزلے سے سب سے زیادہ پالو شہر متاثر ہوا جو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے، شہر میں ہر طرف لاشیں بکھیر ہوئی پڑی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے ملبے کے ڈھیر تلے دبنے کی اطلاعات ہیں، ابتدائی اندازوں کے برعکس بہت وسیع علاقوں میں تباہی ہوئی، فضا سے لی گئی تصاویر میں سولاویسی جزیرے میں ہر طرف تباہی نظر آتی ہے۔
ملک کے امدادی ادارے کے سربراہ محمد سایوگی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ انھیں ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری درکار ہے تاکہ ملبے کو ہٹایا جا سکے،انھوں نے کہا کہ ان کا عملہ متاثرہ علاقوں میں موجود ہے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے نمٹنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے، ڈونگالا کے قصبے کے بارے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہونے والے نقصانات کے بارے میں دو دن گزر جانے کے باوجود مکمل تفصیلات موصول نہیں ہو سکیں ہیں۔
آپ کا تبصرہ