شہید علامہ سید عارف حسین حسینی اسلام کے بےباک، نڈر، مجاہد  اور فرض شناس سپاہی تھے

پاکستان کے مایہ ناز عالم دین اور پاکستانی شیعوں کے رہنما علامہ شہید عارف حسین حسینی ٢٥ نومبر ١٩٤٦ کو پاڑہ چنار کے علاقہ پیواڑ میں سید فضل حسین شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ شہید سید عارف حسین الحسینی امام خمینی(رہ) کی تحریک کے آغاز سے ہی قافلہ حق میں شامل ہو گئے اور اپنی زندگی انقلاب اسلامی کی ترویج اور دفاع میں بسر کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہو گئے.

مہر خـبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق پاکستان کے مایہ ناز عالم دین اور پاکستانی شیعوں کے رہنما علامہ شہید عارف حسین حسینی  ٢٥ نومبر ١٩٤٦ کو پاڑہ چنار کی غیور سرزمین کے علاقہ پیواڑ میں سید فضل حسین شاہ کے گھر میں  پیدا ہوئے ۔ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی  ابتدائی دینی و دنیوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد  ١٩٦٧ میں نجف اشرف تشریف لے گئے. شہید  سید عارف حسین الحسینی ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جو امام خمینی(رہ)  کی تحریک کے آغاز سے ہی  امام خمینی اور ان کے پیغام حق کی معرفت حاصل کرتے ہو ئے قافلہ حق میں شامل ہو ئے اور اپنی  زندگی انقلاب اسلامی کی ترویج اور دفاع میں بسر کرتے ہوئے درجہ  شہادت پر فائز ہو گئے.

امام خمینی (رہ)   اور ان کے پیغام کے ساتھ علامہ سید عارف حسین الحسینی گہری فکری ، جذباتی اور والہانہ وابستگی رکھتے تھے. یوں تو آپ ایک حلیم الطبع اور نرم خو انسان تھے ، لیکن جب بات امام خمینی (رہ)   اور ان کے افکار کی ہوتی اور کوئی شخص ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا یا کمزوری کا مظاہرہ کرتا تو جلال سے آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا . آپ امام خمینی (رہ)   اور ان کے اسلامی انقلابی پیغام کے خلاف کچھ بھی سننے کے روادار نہ تھے. آپ امام خمینی (رہ)  کے پیغام کو زمان و مکان کی قید سے آزاد ایک آفاقی پیغام سمجھتے تھے.

امام خمینی کے ساتھ شہید  علامہ عارف حسین الحسینی  کے عشق و محبت  کا یہ عالم تھا کہ جن دنوں لوگ امام خمینی (رہ)  کے سائے سے بھی ڈرتے تھے ، سید عارف ان کے پیچھے ایسے بازو پھیلا کر چلتے تھے گویا ان کے ذاتی محافظ ہوں.

شہید عارف حسین الحسینی ایک مبارز و مجاہد عالم دین تھے جو حق کی خاطر جان دینا اور لینا بھی جانتے تھے. افکار امام خمینی(رہ)   کی ترویج کو فریضہ سمجھ کر بے لوث و بے غرض انداز میں انجام دییتے تھے.جن دنوں میں امام خمینی (رہ)  و انقلاب کا نام لینا عزت و تکریم و وسائل میں اضافے کا سبب نہیں بلکہ قید و بند کی صعوبتوں ، تکالیف و زندگی داو پر لگانے کا باعث تھا ، اس دور میں شہید حسینی پیغام خمینی (رہ) کی ترویج کرنے والے ہر اول دستے میں شامل تھے.

علامہ سید عارف حسین کی انقلابی سرگرمیوں کی بدولت ١٩٧٤ میں عراقی حکومت نے آپ پر عراق میں داخلے پر پابندی عاید کر دی . جس کی بدولت آپ مزید علم حاصل کرنے کے لیے قم تشریف لے گئے. حوزہ علمیہ چونکہ انقلابی سرگرمیوں کا مرکز تھا ، آپ بھی انقلابی تحریک کے سرگرم رکن بن گئے ، آپ کو امام (رہ)  کے جانثاران سے بھی خصوصی انس پیدا ہو گیا . آپ باقا عدگی سے آقای سید علی خامنہ ای کے خطابات میں جوش و جذبہ  سے شرکت فرماتے اور پیغام حق کو دیگر احباب تک پہنچاتے تھے.

قم سے واپس تشریف لانے کے بعد علامہ عارف حسینی نے امام خمینی (رہ)  کے پیغام کی حقانیت اور شاہ کے مظالم اور غیر اسلامی اقدار کے متعلق پاکستانی عوام  کو آگاہ کیا. آپ نے عملا شاہ ایران کے خلاف مظاہرے کیے اور قوم کو صورت حال سے آگاہ فرمایا. آپ کی دیرینہ خواہش تھی کہ پاکستان میں بھی اسلامی انقلاب کی تحریک استعماری اثر و رسوخ کو خس و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ بہا لے جائے گي ۔

١٩٨٣ میں آپ شیعان پاکستان کی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ نے افکار امام خمینی(رہ)   کی روشنی میں پاکستان میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کی عملی جدوجہد کا آغاز کر دیا. آپ کو علم تھا کہ عالم اسلام افکار خمینی (رہ)   کے ذریعہ  امریکہ و دیگر استعماری قوتوں کو شکست دے سکتا ہے اس لیے آپ نے فرمایا " امریکہ ایک بت ہے جسے ایران کے نہتے غیور عوام نے پاؤں کی ٹھوکروں سے پاش پاش کر دیا  ہے . اب امریکہ اور اس کے حواریوں کی سازش ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کو جہاں تک ممکن ہو ، محدود کیا جائے . اور امام خمینی قدس سراہ کے افکار سے مسلمانان عالم کو بے خبر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذات گرامی کو متنازعہ بنایا جائے. لہذا میں تمام مسلمانوں بلخصوص نوجوانوں سے درخواست کروں گا کہ وہ عالم اسلام کے حقیقی پیشوا اور مستضعفین جہاں کی امید حضرت امام خمینی (رہ)   کے افکار کو ملک کے چپہ چپہ تک پہنچائیں تاکہ دنیا حضرت امام خمینی (رہ)  کے افکار سے باخبر ہو کر استعمار کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دے"   ( 1)

علامہ عارف حسین الحسینی نے اپنی پرخلوص، باہمت،باوفا اور باعزم ٹیم کی مدد سے  امام خمینی(رہ)   کا پیغام پاکستان کے کونے کونے تک پہنچایا . آپ نے امام خمینی کا فلسفہ وحدت اور اسلامی بیداری کا پیغام تمام مکا تب فکر کے سامنے رکھا ، امریکہ کی اسلام دشمنی اور سازشوں کو طشت از بام کیا . اور مظلومین جہاں خصوصا فلسطین و کشمیر، افغانستان  کے مسلمانوں کے لیے صدائے حق بلند کی. ساتھ ہی آپ نے پاکستان سے آمریت اور استعما ری اثر و رسوخ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام پر زور دیا.  آپ کے نورانی قلب سے اٹھی صدا حق باد نسیم کا جھونکا بن کر  پاکستان کے چار سو پھیل گئی.ملکی  تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے مسلمان اپنے مسلکی اختلافات بھلا کر اپنے اصل دشمن کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوئے.

 شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے اپنی قیادت کے چار سالہ قلیل مدت میں شیعان پاکستان کو ایک لڑی میں پرونے ، وحدت امت قائم کرنے ، انقلاب اسلامی کا پیغام  کوملک کےطول عرض میں پھیلانے اور استعماری قوتوں کو للکارنے کا کام بیک وقت انجام دیا .  آپ کی برق رفتار  طوفانی فعالیت سے عالمی استعمار اور اسکے مقامی گماشتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور ایران کے بعد سرزمین پاکستان پر بھی اسلامی انقلاب کے سورج کا طلوع ہونا نوشتہ دیوار تھا جسے دوست دشمن سب بہ آسانی پڑھ سکتے تھے.  یہی وجہ تھی کہ 5 اگست ١٩٨٨  کو باطل قوتوں کے ایجنٹوں نے نماز فجر اور محراب مسجد میں  شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو ان کے جد بزرگوار حضرت علی (ع) کی طرح شہید کردیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ) سفیر نور،  صفحہ 184

News Code 1882911

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =