مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی، اس موقع پر اکبر ایس بابر کی طرف سے احمد حسن ایڈووکیٹ اور پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر بابراعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ایک شخص کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا ہے، جب طلب کیا گیا تو الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اداروں کا احترام کرتے تو یہاں ہونا چاہیے تھا لہذا الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کاروائی کو آگے بڑھائے۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی الیکشن کمیشن کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت ہائی کورٹ کا لارجر بنچ کرے گا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں آج ہی سماعت ہونی ہے۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے لارجر بنچ بنا دیا ہے جو آج سماعت کرے گا جب کہ عمران خان الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں، جب کہیں گے عمران خان الیکشن کمیشن میں حاضر ہوں گے، عمران خان بیرون ملک تھے اور ایک گھنٹہ پہلے ہی واپس پہنچے ہیں۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم پیش نہ ہونے پر الیکشن کمیشن نے چیرمین تحریک انصاف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے جب کہ انہیں ایک لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ایک بار پھر طلب کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ