مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ نے تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کی قید کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کردیا ہے۔کیس کی سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایچ ایل دتو نے کہا کہ جے للیتا کی سزا کو فی الحال معطل کیا جاتا ہے تاہم وہ اپنی اپیل سے متعلق فوری طور پر فائل پیپر کرناٹکا ہائی کورٹ میں 2 ماہ میں جمع کرادیں بصورت دیگر انہیں دوبارہ جیل جانا پڑے گا جب کہ عدالت نے ہائی کورٹ کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ 3 ماہ کے اندر جے للیتا کی اپیل کو نمٹا دے۔جے للیتا کے خلاف کیس دائر کرنے والی بھارتی جنتا پارٹی نے ان کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ ضمانت کی خبر سن کر سیکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی رہنما کی رہائی کا جشن منایا۔واضح رہے کہ کرناٹکا ہائی کورٹ نے کرپشن کے الزام میں جے للیتا کو چار سال کی سزا سنائی تھی جس کے بعد وہ 27 ستمبر سے جیل میں قید تھیں، جے للیتا نے اپنی سزا کے خلاف ضمانت کی درخواست دی جسے کرناٹکا ہائی کورت نے مسترد کردیاتھا جس کے بعد انہوں نے 9 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کردیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ کئی ایسی بیماریوں میں مبتلا ہے جس کا علاج جیل میں رہتے ہوئے ممکن نہیں جس پر عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرلی۔
ہندوستان
ہندوستانی سپریم کورٹ نے تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ کو ضمانت پر رہا کردیا
مہر نیوز/17 اکتوبر/ 2014 ء :ہندوستانی سپریم کورٹ نے تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کی قید کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
News ID 1842450
آپ کا تبصرہ