مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں 4 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے جرم میں 5 افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغان دارالحکومت کابل کے نواحی علاقے میں 4 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 5 ملزمان کو سزائے موت دے دی گئی۔ افغان ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی اجتماعی زیادتی کے پانچوں افراد کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کی تصدیق کر دی ہے جب کہ سزائے موت کے حکم پر عمل درآمد کرنے کے خلاف اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقدمے میں نہ تو تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے اور نہ ہی سزا پر عمل درآمد سے متاثرین کو انصاف ملے گا۔
واضح رہے کہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ رواں برس اگست میں کابل کے علاقے پغمان میں پیش آیا جب خواتین اپنی فیملیز کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہی تھیں۔ خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ذمہ دار افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جانے لگا جس پر اس وقت کے افغان صدرحامد کرزائی نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ملزمان کو ہر صورت میں پھانسی کی سزا دی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ