23 اکتوبر، 2012، 3:18 PM

حضرت امام باقر (ع)

خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے

خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے

مہر نیوز/ 23 اکتوبر2012ء:حضرت امام محمّد باقر (ع) نے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت میں ایک عظیم اور وسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی آپ کا علمی دائرہ انتہائی وسیع تھا اور صرف کلامی اور فقہی علوم تک محدود نہیں تھا۔آپ نے فرمایا:خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہئے کہ اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام محمّد باقر (ع) نے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت میں ایک عظیم اور وسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی آپ کا علمی دائرہ انتہائی وسیع تھا اور صرف کلامی اور فقہی علوم تک محدود نہیں تھا۔

علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے ملاتوآپ نے فرمایا اے جابرمیں دنیا سے بالکل بے فکرہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہووہ دنیاکوکچھ نہیں سمجھتا،اور تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ دنیاچھوڑی ہوئی سواری اتاراہواکپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیاکی بقاسے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نورخدااس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کوتقوی اختیارکرناچاہئے کہ وہ ہروقت اسے متنبہ اوربیدارکھتاہے سنودنیاایک سرائے فانی ہے نزلت بہ وارتحلت منہ “ اس میں آناجانالگارہتاہے آج آئے اورکل گئے اوردنیاایک خواب ہے جوکمال کے ماننددیکھی جاتی ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہیں

آپ نے فرمایا تکبربہت بری چیزہے ،یہ جس قدرانسان میں پیداہوگا اسی قدراس کی عقل گھٹے گی ،کمینے شخص کاحربہ گالیاں بکناہے ۔

ایک عالم کی موت کوابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہترسمجھتاہے ایک ہزارعابدسے وہ ایک عالم بہترہے جواپنے علم سے فائدہ پہنچارہاہو۔

میرے ماننے والے وہ ہیں جواللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والابخشاجاتاہے اورجس رخسارپر آنسوجاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔

سستی اورزیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے ۔

خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہئے کہ اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں۔

دعاسے قضابھی ٹل جاتی ہے ۔ نیکی بہترین خیرات ہے

بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کواپنی آنکھ کی شہتیردکھائی نہ دے،اور دوسرے کی آنکھ کاتنکانظرآئے ،یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظرآئیں اورخودعمل نہ کرے، صرف دوسروں کوتعلیم دے۔

جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دوررہے ،وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے (مطالب السؤل ص 272) ۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ جب کوئی نعمت ملے توکہوالحمدللہ اورجب کوئی تکلیف پہنچے توکہو”لاحول ولاقوۃ الاباللہ“ اورجب روزی تنگ ہوتوکہواستغفراللہ ۔

دل کودل سے راہ ہوتی ہے،جتنی محبت تمہارے دل میں ہوگی ،اتنی ہی تمہارے بھائی اوردوست کے دل میں بھی ہوگی

تین چیزیں خدانے تین چیزوں میں پوشیدہ رکھی ہیں:

1 ۔ اپنی رضااپنی اطاعت میں ،کسی فرمانبرداری کوحقیرنہ سمجھو شایداسی میں خداکی رضاہو۔

2۔ اپنی ناراضی اپنی معصیت میں کسی گناہ کومعمولی نہ جانوتوشایدخدا اسی سے ناراض ہوجائے

3 ۔ اپنی دوستی یااپنے ولی، مخلوقات میں کسی شخص کوحقیرنہ سمجھو، شایدوہی ولی اللہ ہو (نورالابصار ص 131 ،اتحاف ص 93) ۔

احادیث آئمہ میں ہے امام محمدباقرعلیہ السلام فرماتے ہیں انسان کوجتنی عقل دی گئی ہے اسی کے مطابق اس سے قیامت میں حساب وکتاب ہوگا۔

ایک نفع پہنچانے والاعالم سترہزارعابدوں سے بہترہے ،عالم کی صحبت میں تھوڑی دیربیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہترہے خداان علماء پررحم وکرم فرمائے جواحیاء علم کرتے اورتقوی کوفروغ دیتے ہیں ۔

علم کی زکواۃ یہ ہے کہ مخلوق خداکوتعلیم دے جائے ۔ قرآن مجیدکے بارے میں تم جتناجانتے ہواتناہی بیان کرو۔

بندوں پرخداکاحق یہ ہے کہ جوجانتاہواسے بتائے اورجونہ جانتاہواس کے جواب میں خاموش ہوجائے ۔ علم حاصل کرنے کے بعداسے پھیلاو،اس لیے کہ علم کوبند رکھنے سے شیطان کاغلبہ ہوتاہے ۔

معلم اورمتعلم کاثواب برابرہے ۔ جس کی تعلیم کی غرض یہ ہوکہ وہ … علماء سے بحث کرے ،جہلاپررعب جمائے اورلوگوں کواپنی طرف مائل کرے وہ جہنمی ہے ،دینی راستہ دکھلانے والااورراستہ پانے والادونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں۔ جودینی راستہ دکھلانے والااورراستہ پانے والادونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں ۔

جودینیات میں غلط کہتاہواسے صحیح بنادو، ذات الہی وہ ہے، جوعقل انسانی میں نہ سماسکے اورحدودمیں محدودنہ ہوسکے ۔

اس کی ذات فہم وادراک سے بالاترہے خداہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا، خداکی ذات کے بارے میں بحث نہ کرو،ورنہ حیران ہوجاؤگے ۔ اجل کی دوقسمین ہیں ایک اجل محتوم،دوسرے اجل موقوف، دوسری سے خداکے سواکوئی واقف نہیں، زمین حجت خداکے سواکوئی واقف نہیں ،زمین حجت خداکے بغیرباقی نہیں رہ سکتی۔

امت بے امام کی مثال بھیڑکے اس گلے کی ہے،جس کاکوئی بھی نگران نہ ہو۔

سلطنتِ شام کو جتنا حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی علمی جلالت اور بزرگی کا اندازہ زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی آپ کا وجود ان کے ليے ناقابل برداشت ہوگیا- آخر آپ کو اس خاموش زہر کے حربے سے جو اکثر سلطنت بنی امیہ کی طرف سے کام میں لایا جاتا رہا تھا شہید کرنے کی تدبیر کر لی گئی- ایک زین کا تحفہ تھا جس میں خاص تدبیر سے زہر پوشیدہ کیا گیا تھا اور جب حضرت اس زین پر سوار ہوئے تو زہر جسم میں سرایت کر گیا۔ چند روز کرب و تکلیف میں بستر بیماری پر گزرے اور آخرت سات ذی الحجہ ~114ھ کو 57برس کی عمر میں شہید ہوگئے۔

آپ کو حسب وصیت تین کپڑوں کا کفن دیا گیا جن میں سے ایک وہ یمنی چادر تھی جسے اوڑھ کر آپ روز جمعہ نماز پڑھتے تھے اور ایک وہ پیراہن تھا جسے آپ ہمیشہ پہنے رہتے تھے اور جنت البقیع میں اسی جگہ دفن کئے گئے جہاں حضرت امام حسن علیہ السّلام اور امام زین العابدین علیہ السّلام مدفون تھے ۔

News ID 1726999

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha