15 اکتوبر، 2012، 3:31 AM

رہبر معظم انقلاب اسلامی

اسلامی زندگی کے لئے مغربی تمدن کی عدم پیروی اور ایمان ضروری ہے

اسلامی زندگی کے لئے مغربی تمدن کی عدم پیروی اور ایمان ضروری ہے

مہر نیوز/ 14 اکتوبر2012ء: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح شمالی خراسان صوبے کے جوانوں اور مدارس اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلباء کے پرجوش اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: طرز زندگی، نئے اسلامی تمدن اور پیشرفت کا بنیادی حصہ ہے اورمغربی تمدن اور ثقافت کی عدم پیروی اور ایمان، اسلامی زندگي پر مبنی ثقافت کے لئے ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  (بروز اتوار) شمالی خراسان صوبے کے جوانوں اور مدارس اور یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء کے پرجوش و خروش اجتماع سے خطاب میں طرز زندگی کو نئے اسلامی تمدن کی تشکیل اور پیشرفت و ترقی کا حقیقی اور بنیادی حصہ قراردیا اور ایران میں طرز زندگی کی موجودہ صورتحال کو در پیش خطرات اور ملک کے ممتازمفکرین اور دانشوروں  کو اس کے علاج کے سلسلے میں دعوت دیتے ہوئے فرمایا: علم ، صنعت ، اقتصاد اور سیاست میں پیشرفت سے اسلامی تمدن کا اسبابی و ابزاری  پہلو تشکیل پاتا ہےجو صحیح طرززندگی ، صحیح ثقافت ، پیشرفت و ترقی ، امن و سکون اور  سلامتی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیشرفت کے مفہوم کو راہ اور حرکت و پیشرفت کے لئے لازمی امرقراردیتے ہوئے فرمایا: پیشرفت جاری رکھنے کے معنوی و مادی دونوں مفاہیم کی طرز زندگي، سماجی رفتار اور زندگی بسر کرنے کے طریقہ کار کے لئے بہت بڑی اہمیت ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے اسلامی تمدن میں طرززندگی اور اس کے اہم مقام کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: اگر پیشرفت کے ہمہ گير مفہوم کو ہم نئے اسلامی تمدن کی تشکیل کے معنی میں لیں تو اس تمدن کے اسبابی و ابزاری اور حقیقی و اساسی دو حصے ہوں گے اور طرززندگی اس کے حقیقی و اساسی حصہ پر مشتمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے اسلامی تمدن کے دونوں حصوں کے محقق ہونے کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی تمدن کا اسبابی اور ابزاری حصہ، علم، خلاقیت، اقتصاد،سیاست، بین الاقوامی اعتباراور ان کے مانند موضوعات اورعناوین کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس شعبے میں ہم نے اچھی اور قابل توجہ پیشرفت حاصل کی ہے لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ ترقیات اسلامی تمدن کے حقیقی اور اساسی حصہ تک پہنچنے  کے اسباب اور وسائل ہیں اور اسلامی تمدن کا حقیقی حصہ صحیح طرز زندگي پر مشتمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےطرززندگی اور ثقافت کے مفہوم کی تشریح میں خاندانی مسائل، شادی، گھریلو ماحول ، لباس کی قسم، درست استعمال کا نمونہ، تفریحات، کام و کسب، کاروبار، مختلف میدانوں میں انفرادی و سماجی رفتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: درحقیقت طرز زندگی ان تمام مسائل پر محیط و مشتمل ہے جو انسانی زندگی کو تشکیل دیتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طرزندگی و ثقافت پر اسلام کی گہری توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی معارف میں ، اپنے جامع مفہوم میں عقل معاش کی اصطلاح ، طرززندگی و ثقافت ی کے مترادف ہے اور قرآن مجید میں بھی اس سلسلے میں بہت سی آيات موجود ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے اسلامی تمدن " یعنی طرزندگی و ثقافت " میں پیشرفت کے بغیر اس تمدن کے عظیم اہداف محقق نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اس حصہ میں خاطر خواہ پیشرفت حاصل نہیں کی اور پہلے حصہ یعنی علم و صنعت،اور ان کے مانند امور کی طرح  ہم نے طرز زندگی کے شعبہ میں پیشرفت حاصل نہیں کی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےخطرات کی پہچان اور طرززندگی و ثقافت کے شعبہ میں عدم پیشرفت کی علت اور سبب معلوم کرنے کو ضروری قراردیا اور حوزہ علمیہ و یونیورسٹیوں کے دانشوروں اور ثقافتی و تعلیمی اداروں سے منسلک ممتاز ماہرین ،سیاسی و ثقافتی مفکرین اور جوانوں کو دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اس سلسلے میں ہم سب کو خوف کا احساس، نیز خطرات کی پہچان کے سلسلے میں سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے اور اس کے علاج کے بارے میں جد وجہد اور تلاش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اگر خطرات و آسیب کی شناخت اور طرززندگی و ثقافت کے سلسلے میں موجودہ مشکلات کا جوانوں میں موجود صلاحیتوں اور نشاط کے پیش  نظر علاج کیا جائے تو یقینی طور پراس سلسلے میں بھی ایرانی قوم کی درخشندگي عالمی توجہ کو اپنی طور مبذول کرنے میں کامیاب ہوچائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طرززندگی و ثقافت زندگی کی بحث کے سلسلے میں ملکی ادبیات و  گفتگو کی فضا میں  نئے ہونے کے پیش نظر اپنے خطاب کو عینی خطرات کی نوع و قسم کی  شناخت کے بارے میں جاری رکھتے ہوئے اس سلسلے میں متعدد سوالات پیش کئے۔ایران میں اجتماعی کام کی ثقافت کمزور کیوں ہے؟ سماجی روابط اور ایک دوسرے کےحقوق کی رعایت کیوں نہیں کی جاتی؟ بعض علاقوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ کیوں ہوگیا ہے؟ گاڑی چلاتے وقت قانون کی رعایت کیوں نہیں کی جاتی؟آپارٹمان  کے شرائط کی رعایت کیوں نہیں کی جاتی؟ سالم تفریح کے نمونے کون سے ہیں؟ کیا ہم روزانہ کی باہمی معاشرت میں ایکدوسرے سے سچ بولتے ہیں؟ معاشرے میں جھوٹ کس قدر رائج ہے؟ سماجی روابط میں عدم برداشت کے علل و اسباب کیا ہیں؟ شہروں کی معماری اور لباس کا ماڈل کتنا عقلی اور منطقی عمل ہے؟ آیا انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کی جاتی ہے؟ بعض افراد اور اداروں میں قانون سے فرار کرنے اور اس پر عمل نہ کرنےکے علل و اسباب کیا ہیں؟ سماجی کام اور نظم و ضبط میں ہم کتنے سنجیدہ ہیں؟ اندرونی سطح پر پیداوار کی کیفیت پر کتنی توجہ ہے؟کیوں بعض باتیں صرف باتوں کی حد تک باقی رہتی ہیں ؟ اداروں میں مفید کام کے گھنٹے کم کیوں ہیں؟ سود کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا  بیوی و شوہر اور اولاد کے حقوق کی خاندان میں مکمل رعایت کی جاتی ہے؟ بعض افراد کے لئے اسراف مایہ فخر کیوں ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ عورت اپنی گھریلو عزت و کرامت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے سماجی وظائف کو بھی انجام دے سکے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فہرست وار سوالات پیش کرنے کے بعد فرمایا: دسیوں سوالات اور بنیادی مسائل موجود ہیں جو طرز زندگی و ثقافت سے منسلک ہیں انسانی زندگی میں ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر طرززندگی و ثقافت کے حصہ میں ایک تمدن اور اس کی پیشرفت کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےطرز زندگی و ثقافت  کی عینی اہمیت کی تشریح کے بعد اسلام کے نقطہ نظر سے اس بحث کے راہ گشا اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام عقل ، اخلاق اور حقوق کو صحیح ثقافت کے اصلی اصول سمجھتا ہے اور ہمیں بھی ان اصولوں پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے ورنہ نیا اسلامی تمدن اور اسلامی پیشرفت  محقق نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے روش اور طرز زندگی کی تشکیل و ترسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: روش و طرز زندگی درحقیقت زندگی کی ہماری تفسیر کے زیر اثرہے اور زندگي کے لئے جو ہدف ہم معین کریں گے وہی خاص طرز زندگی اور روش زندگی بن جائےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ، سیاسی، اقتصادی اور سماجی ہر مکتب و نظریہ میں مقرر شدہ اصلی اہداف کے محقق ہونے کے لئے اس ہدف پر ایمان و اعتقاد کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: سنجیدہ تلاش و کوشش اور اعتقاد کے بغیر کوئی ہدف محقق نہیں ہوسکتا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں بعض مغرب نما فلاسفہ اور ان کے داخلی پیروکاروں کی طرف سے مغالطہ پیدا کرنے کی طرف اشارہ کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ لوگ کہتے ہیں کہ معاشرے کو اعتقاد اور مکتب کے ذریعہ نہیں چلایا جاسکتا، لیکن تمدن  کی تشکیل کے سلسلے میں تمام تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مکتب ، سماج کی عظیم حرکات کا چلانے والا اور ہدایت کرنے والا ہے اور بغیر مکتب و اعتقاد اور بغیر ایمان و تلاش اور بغیر قیمت ادا کرنے کے کوئی بھی تمدن  محقق نہیں ہوسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ بعض ممالک کسی خاص مکتب پر ایمان کے بغیر مغربی تمدن کے پیروکار ہیں اور ممکن ہے یہ ممالک ظاہری طور پر ترقیات تک بھی پہنچ جائيں لیکن ان پر مغربی تقلید و پیروی کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی جڑیں خشک ہوجاتی ہیں لہذا اگر کوئی طوفان برپا ہوجائے تو ان میں پائداری کی ہمت نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک کی پیروی اور تقلید کرنے والے ممالک کے برخلاف وہ قومیں جو مغربی ممالک کے مقابلے میں مکتب توحید کو انتخاب کرتی ہیں  وہ حقیقی اور ہمہ گير پیشرفت بھی حاصل کرتی ہیں  اور گہرا اور عمیق تمدن بھی تشکیل دیتی ہیں جو دنیا میں ان کی فکر و ثقافت کو فروغ دیتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایرانی قوم کو روشنفکری ماحول میں  رہ کر مکتبی اور اصولی  نعروں سے ڈرانے والے افراد پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ  اپنے خوف و ہراس کو قوم کے اندر منتقل کرنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے  مسلسل یہ کہتے ہیں کہ مکتبی نعرے پابندیوں ،دباؤ اور مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر ان باتوں پر خوش فہمی سے بھی دیکھا جائے تو ہمیں کہنا چاہیے کہ یہ لوگ تاریخ سے بے خبر ہیں۔

رہبر معظم اقنلاب اسلامی نے فرمایا: طرززندگی و ثقافت کی بحث میں دین اسلام نے تمام ضروریات کو پورا کیا ہے اور حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے دانشوروں کو چاہیے کہ وہ فقہ اور حقوق کے سلسلے میں تلاش کے علاوہ  اسلامی اخلاق ، اسلام کے عملی سلوک اور عقل کے سلسلے میں بھی نمایاں اور اچھے کام انجام دیں تاکہ ان کی کوششوں کے نتائج کی بنیاد پر منصوبہ بندی اور آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت  استوار ہوسکے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہدف پر ایمان کی ضرورت کو تمدن کی تشکیل کے بنیادی عوامل قراردیا اور اپنی بحث کو ایک اہم و بنیادی  نکتہ پر تاکید کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے فرمایا: مغربی تہذيب و تمدن سے اور ان کے طرززندگي سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔

 رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا:  البتہ ہماری مغربی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن ہم تحقیق اور ریسرچ کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ مغرب کی تقلید اور پیروی کرکے کوئي بھی قوم کامیابی تک نہیں پہنچ سکی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حالیہ چند صدیوں کے مکرر تجربات  کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: مغربی تمدن حملہ آور تمدن ہے وہ جس صورت میں جس ملک میں بھی رائج ہوتا ہے اس ملک کی ثقافت اور تشخص کو نابود کردیتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک اور ان کی پیروی کرنے والے ممالک میں ہمجنس پرستی کے عظیم گناہ کے عام رواج اور خاندانوں کے زوال ، گہری مشکلات اور کشیدگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک کی ثقافت ظاہر ترقی پراستوار ہے لیکن ان کا باطن  معنویت سے عاری ، گناہ سے آلودہ  اور شہوت پرست مادی طرز زندگی پر استوار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں زندگی کے بعض مظاہر میں مغربی ثقافت کی پیروی کی  طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس مسلہ کی لازمی و صحیح ثقافت کے ذریعہ بتدریج اصلاح کرنی چاہیے۔

 رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں  نمائشی اور سنیمائی فن و ہنر کے ذریعہ وسیع پیمانے پر مغربی ممالک کے سوء استفادہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک کے سیاستداں اس روش کے ذریعہ دوسرے ممالک میں مغرب کی غلط ثقافت کو فروغ دینے کی تلاش و کوشش کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں عملی ریسرچ اور تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: وہ طے شدہ منصوبوں کے تحت مؤرخین، سماجی اور نفسیاتی ماہرین  کے ذریعہ قوموں کے کمزور نقاط بالخصوص مسلمان قوموں کے کمزور نقاط کا اچھی طرح جائزہ لیتے ہیں اور ان پر مسلط ہونے کی راہوں کی شناخت کے ذریعہ فلم سازوں کو مخصوص فلمیں بنانے کی سفارش کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں عوام اور حکام کو ملکر ملک کی ثقافت کی بھر پورحفاظت کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک دوسرے نکتہ میں سطحی نگری اور بنیاد پرستی  اور سیکولرازم سے پرہیز کرنے  کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بعض باتیں بظاہر دینی ہوتی ہیں لیکن ان کے ذریعہ دین کو زندگی سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےشمالی خراسان صوبے کے جوانوں کے پرجوش اجتماع سے اپنے خطاب کے اختتام پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی میں انرجی، توانائی اور ظرفیت بہت زيادہ ہے اور وہ ہر رکاوٹ کو اپنے راستے سے دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممتاز و عظیم اسلامی تمدن کو  پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بھر پور قدرت رکھتا ہے۔

اس ملاقات کے آغاز میں مندرجہ ذيل طلباء اور طالبات نے اپنے نظریات پیش کئے:

٭ سید مصطفی نجفیان- ریاضی اولمپیاڈ میں پہلا مقام اور صوبائی سطح پر ادبی اولمپیاڈ میں دوسرا مقام

٭ محبوبہ رضائیان- بجنورد میڈيکل کی طالبہ ، ممتاز طالبہ

٭ مہدی قناد شیروان- اختراعات کے بین الاقوامی  مقابلوں میں گولڈ میڈل

٭ کتایون یزدانی-  قرآن میں ممتاز اور صوبائی سطح پرخوارزمی مقابلوں میں تیسرا مقام

٭ میلاد حسین پور- سول انجینئرنگ کے طالب علم اور بجنورد یونیورسٹی میں بسیج کے انچارج

مذکورہ افراد نے سیاسی، ثقافتی، سماجی اور یونیورسٹی کے مختلف مسائل کے بارے میں اپنے نظریات پیش کئے:

٭ طلباء کی معنوی اور روحی بلندی کے لئے مؤثر منصوبہ بندی

٭ سافٹ ویئر جنگ کے سلسلے میں طلباء کی آمادگی میں علمی جہاد کی شکل میں  اضافہ کی کوشش

٭ فکری ریسرچ سینٹر کی تشکیل پر تاکید

٭ تنقید پر حکام کی توجہ اور طلباء سے براہ راست گفتگو

٭ شہر قرآن کی تشکیل کی تجویز

٭  وزارت تعلیم میں ممتاز افراد کی تعلیم و تربیت اور ان کے نیٹ ورک کی تشکیل

٭ ریسرچ و تحقیق پر مبنی کتابوں کی تالیف

٭  پرائمری اسکول سے طلباء میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے پر تاکید

٭ جہادی تفریحات کی تقویت اورشمالی خراسان صوبہ میں ہجرت  منصوبہ کے علماء پر خصوصی توجہ

٭ صوبائي حکام کا مقامی سطح پر انتخاب

٭ عوامی مشکلات کو دور کرنے پر حکام کی سنجیدہ توجہ پر تاکید

٭ تمدن اسلامی کے جامع نمونہ کو پیش کرنے پر تاکید

٭  مدارس میں طلباء کی مختلف انجمنوں کی تشکیل پر تاکید

News ID 1720049

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha