29 جنوری، 2012، 11:06 PM

علی اکبر صالحی

ایران سےیورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کرنےکا کسی کو حق حاصل نہیں

ایران سےیورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کرنےکا کسی کو حق حاصل نہیں

مہر نیوز-29 جنوری 2012ء: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نےآدیس آبابا میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران سے یورینیم افزودگي روکنے کا مطالبہ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے یورینیم کی افزودگی ایران کا قانونی حق ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نےاتھیوپیا کے دارالحکومت آدیس آبابا میں ایک پریس کانفرنس میں شام کے بارے میں ایران کے مؤقف ، ایران میں انسانی حقوق ، آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی  اور گروپ 1+5 کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئےکہا ہے کہ ایران سے یورینیم افزودگي روکنے کا مطالبہ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ  ایران کا قریبی تعاون جاری ہے اور کل رات ایٹمی ایجنسی کےانسپکٹروں کا ایک اعلی وفد تہران پہنچ گيا ہے اور ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے وفد کے سفر کے لئے مکمل تعاون کیا ہے انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے انسپکٹر اس سے پہلے بھی کئي بار تہران کا دورہ کرچکے ہیں اور انھوں نے اپنی متعدد رپورٹوں میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی انحراف نہیں ہے صالحی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ حق سلب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائےگی۔

انھوں نے آبنائے ہرمز بند کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئےکہا کہ آبنائے ہرمز ہمارے لئے بہت اہم ہے اور آبنائے ہرمز کا تعلق ہمارے مفادات سے ہے اگر ہمارے مفادات کو کوئی نقصان پہنچا تو یقینی طور پر ہم دفاعی کارروائی کریں گے ورنہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا ہمرا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

شام کے بارے میں ایران کے مؤقف سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا مؤقف شام کے بارے میں بالکل واضح ہے جس کا ہم نے بارہا اعلان کیا ہے شام کے صدر بشار اسد نے اصلاحات اور رفرنڈم  کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے پر عمل کررہے ہیں جبکہ بعض دیگر شام کے امور میں مداخلت کرکے شامی حکومت کی اصلاحات  میں خلل ڈال رہی ہیں ، صالحی نے کہا کہ شام میں غیر ملکی مداخلت کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

صالحی نے گروپ 1+5 کے ساتھ گفتگو کے لئے ایران کی آمادگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران تعمیری گفتگو کے لئے ایران کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں امریکہ کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش نہیں بلکہ وہ ایٹمی پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران کی علمی پیشرفت روکنا چاہتا ہے اور ایرانی سائنسدانوں کا قتل اس کا واضح ثبوت ہے۔

News ID 1520386

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha