16 دسمبر، 2004، 1:50 PM

16 دسمبر: ہندپاك تجارت

پاك ہند تجارتي تعلقات سے مہنگائي كم ہوگي، پرديپ مہتا

ممتاز ہندوستاني كالم نگار اور اسكالر پرديپ ايس مہتا نے پاكستان اور ہندوستان كے مابين دوطرفہ تجارتي اور اقتصادي روابط كو فروغ دينے پرزور ديا ہے اور كہا ہے كہ عالمگيريت كے اس عہد ميں اقتصادي پابندياں دونوں ملكوں كے مفاد ميں نہيں ہيں ـ

خبر رساں ايجنسي مہر نے پاكستاني ذرائي ابلاغ كے حوالے سے خبر دي ہے كہ پاكستان انسٹيٹيوٹ آف ليبر ايجوكيشن اينڈ ريسرچ (پائلر) كے زيراہتمام پرديپ ايس مہتا نے اپنے ليكچر ميں ان خيالات كا اظہار كيا ـ جس كا موضوع ”كيا علاقائي اقتصادي تعاون كا انحصار تمام تنازعات پر ہونا چاہئے“ تھا  ـ

 پرديپ ايس مہتا نے كہا كہ تجارتي اور اقتصادي تعلقات كا فروغ دونوں ملكوں كے فائدے ميں ہے كيونكہ اس سے مقابلے كي فضا پيدا ہوگي اور چيزيں سستي دستياب ہونگي ـ اس طرح صارفين كي قوت خريد ميں اضافہ ہوگا? انہوں نے كہا كہ ايران سے بھارت تك پاكستان كے راستے جو پائپ لائن بچھائي جارہي ہے? اس سے پاكستان كو500 ملين ڈالرز كي آمدني ہوگي ـ انہوں نے كہا كہ دونوں ملكوں كے عوام خطے ميں امن و استحكام چاہتے ہيں اور عدم تعاون ايك دوسرے كو اپنے ہاتھوں تباہ كرنے كے مترادف ہے ـ انہوں نے چين اور بھارت كے مابين تجارتي حجم ميں اضافے كي مثال ديتے ہئے كہا كہ گزشتہ تين سال ميں دونوں ملكوں كي تجارت 3ارب ڈالر سے بڑھ كر 10 ارب ڈالر تك پہنچ گئي ہے حالانكہ دونوں كے درميان زمين كا تنازع بھي موجود ہے ـ

 

 

News ID 139574

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha