مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے واقعات میں13افراد ہلاک اورایک خاتون اوردوسگے بھائیوں سمیت 83سے زائدزخمی ہو گئےہیں۔ نامعلوم افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں 17 گاڑیوں اور دو دکانوں کونذر آتش بھی کر دیا ہے ۔ پاکستانی پولیس حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بنارس کے علاقے سے شروع ہوا جہاں نامعلوم افراد نے گاڑیوں پر فائرنگ کردی اور پتھراؤ کیاجس سے تین افرادمحمد علی،مختار اور مطیع اللہ ہلاک اور ایک خاتون سمیت 54 افراد زخمی ہو گئے۔ہلاک اور زخمی ہونے والوں کواورنگی ٹاؤن کے قطر اسپتال پہنچایا گیا تھا۔اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیف کے مطابق زخمیوں میں 15افراد کو گولیاں لگی تھیں جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے جبکہ باقی افرادپتھر لگنے سے زخمی ہوئے تھے جنہیں طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا ہے بنارس چوک پر ہنگامہ آرائی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور نامعلوم افراد نے اورنگی ٹاون ، قصبہ کالونی ، سہراب گوٹھ ،ابو الحسن اصفہانی روڈ ،ناگن چورنگی ، شادمان ٹاؤن ، واٹرپمپ، پاک کالونی، داؤدچورنگی اور کورنگی میں ہوائی فائرنگ کرکے دکانیں اور کاروبار بند کرادیئے ہیں ۔ شاہراہ نورجہاں کے علاقے میں پہاڑ گنج کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 35سالہ بابرشاہ ہلاک ہوگیا جبکہ بلدیہ ٹاؤن ،قصبہ موڑ، پیرآباداور اورنگی ٹاؤن میں بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 15افراد زخمی ہوگئے مسلح افراد نے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر ٹائر جلائے اور شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جبکہ اورنگی ٹأن میں دو دکانوں اور5گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔نامعلوم افراد نے پاک کالونی غریب آباداورشادمان ٹاؤن میں بھی 5گاڑیوں کو آگ لگادی۔ انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لئے سخت سکیورٹی انتظامات کئے ہیں اور بلوائیوں کو دیکھتے ہوئے گولی مارنے کا حکم دیدیا ہے۔
آپ کا تبصرہ