6 اگست، 2026، 7:34 AM

عربستان ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکا ہے، فارن پالیسی

عربستان ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکا ہے، فارن پالیسی

مغربی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں سعودی عرب کی علاقائی پالیسیوں اور امریکی کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض اس وقت ایک پیچیدہ اسٹریٹجک صورتحال سے دوچار ہے اور ایران و انصار اللہ یمن کے درمیان دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فارن پالیسی نے لکھا کہ سعودی عرب کی موجودہ مشکلات کا ایک سبب خطے میں اس کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ امریکی قیادت کے بعض فیصلے بھی ہیں، جنہوں نے ریاض کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے۔

رپورٹ میں سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو غیر ضروری اور غلط اندازوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ ریاض نے انصار اللہ کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ کیوں اختیار کیا۔ جریدے کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاملے میں عدن میں قائم حکومت کے مفادات کے تحت کردار ادا کیا۔

فارن پالیسی نے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس کارروائی کا مقصد مبینہ طور پر اس طیارے کو اترنے سے روکنا تھا جو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع جنازہ کی تقریب میں شرکت کے بعد انصار اللہ کے ایک وفد کو واپس یمن لے جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اگر اس پرواز کو اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جاتا، تب بھی صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانا ایک غیر ضروری اقدام تھا، جبکہ اس طیارے کو اترنے کی اجازت دینا نسبتاً آسان اور کم لاگت فیصلہ ہو سکتا تھا۔

جریدے نے مزید لکھا کہ ایئرپورٹ پر بمباری کے ممکنہ نقصانات اس کے متوقع فوائد سے کہیں زیادہ تھے اور سعودی عرب اس معاملے کو نظر انداز بھی کر سکتا تھا۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اس وقت عملی طور پر انصار اللہ کے مقابلے میں تنہا کھڑا ہے اور اس کے عرب ہمسایوں میں سے کسی نے بھی کھل کر اس کا ساتھ نہیں دیا، کیونکہ بیشتر علاقائی ممالک انصار اللہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کے خطرات مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

فارن پالیسی نے امریکی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت نے سعودی عرب کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ ریاض ماضی میں باراک اوباما کے دور کے ایران جوہری معاہدے سے ناخوش تھا، تاہم ٹرمپ نے بھی سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے مشروط کر کے اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔

جریدے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی مبینہ "ایپک ریج" پالیسی نے خلیج فارس کے مغربی ساحل پر واقع ممالک کے مقابلے میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کیا، جبکہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے بعد اپنے علاقائی اتحادیوں کو تنہا چھوڑ دے۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ سال 2026 سعودی عرب کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا ہے۔ جریدے کے مطابق مختلف علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کی حمایت خریدنے یا انہیں راضی رکھنے کی پالیسی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی اور اگر ریاض خطے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہوئے علاقائی حقائق اور اسٹریٹجک ماحول کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہوگا۔

News ID 1940569

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha