مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سفارتی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں صرف ایک یا دو نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، جبکہ دیگر بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں۔
سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ باقی رہ جانے والے نکات زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں اور اگر کسی دوسرے فریق کی جانب سے منفی مداخلت نہ ہوئی تو عنقریب معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
سفارتی ذریعے نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بند نہیں ہوئی، اس لیے اسے بند یا دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکہ کی جانب سے ایسے کسی اقدام سے منسلک ہوگا جسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے۔
الجزیرہ کے مطابق، ذریعے نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتے ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار آئندہ سفارتی اقدامات اور بیرونی عوامل پر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ