مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے امریکی فوج کی جارحیت کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
جنوبی ایران میں دھماکوں کی گونج
منگل اور بدھ کی درمیانی شب صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہروں بمپور اور چابہار میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ان کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے اطراف فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
بوشہر کے گورنر نے واضح کیا کہ کسی مقام پر حملہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب صوبہ ہرمزگان کی انتظامیہ نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے اور بندرعباس، ساحلی علاقوں اور خلیج فارس کے جزیروں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی۔
ہرمزگان کے ضلع حاجی آباد میں شہر کے نواحی علاقے میں ایک میزائل یا راکٹ گرنے کی تصدیق کی گئی، جبکہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع سیریک میں بھی دور سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
صوبہ خوزستان اور ایلام میں بھی امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ خوزستان کی صوبائی انتظامیہ کے مطابق دشتِ آزادگان اور ہویزہ میں گندم اور آٹے کے دو گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دہلران کے گورنر نے بتایا کہ موسیان کے علاقے میں معدنی پانی تیار کرنے والی ایک فیکٹری پر تین میزائل گرے، جس سے مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب کا بیان؛ آپریشن "نصر 2" کی متعدد لہریں
سپاہ پاسداران انقلاب نے مسلسل جاری کردہ بیانات میں "آپریشن نصر 2" کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
تیسری لہر
سپاہ پاسداران کے مطابق بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے گوداموں اور کویت کے علی السالم ایئر بیس پر MQ-9 ڈرونز کی تعیناتی کے مقام کو نشانہ بنایا۔
چوتھی لہر
بیان کے مطابق کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں واقع امریکی فوج کے مرکزی لاجسٹک اور سپورٹ مرکز KJL کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
پانچویں لہر
سپاہ پاسداران انقلاب کے مطابق، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، لاجسٹک مراکز، فوجی سازوسامان کے گوداموں اور ایندھن کے ذخائر پر میزائل حملے کیے گئے۔
چھٹی لہر
سپاہ نے اردن کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی ساختہ F-15، F-16 اور F-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور متعدد MQ-9 اسٹریٹجک ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں اردنی عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے اقدامات کریں۔
ساتویں لہر
سپاہ کے مطابق خوزستان کے ہویزہ میں گندم کے گودام اور ایلام کے دہلران میں معدنی پانی کی فیکٹری پر حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز، میزائل اور فضائی دفاعی ریڈار، پیٹریاٹ دفاعی نظام، ایک فوجی لاجسٹک مرکز اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب تک امریکہ کی "جارحانہ کارروائیاں" جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی برآمدات معطل رہیں گی۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی نئی کارروائی کا "غیر متوقع اور سخت جواب" دیا جائے گا۔
ایرانی فوج کا مؤقف؛ آپریشن "صاعقہ" کا ساتواں مرحلہ
ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے علیحدہ بیان میں کہا کہ آپریشن صاعقہ کے ساتویں مرحلے کے دوران اردن کے الازرق ایئر بیس پر امریکی فوج کے F/A-18 لڑاکا طیاروں کے اڈوں، رہائشی عمارتوں اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد امریکی حملوں کے جواب میں اب تک خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کے چھ مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں۔
سیاسی اور بین الاقوامی ردعمل
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان دھمکیوں کا جواب "عملی اقدامات" سے دے گا اور ملک کی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو امریکہ "تمام پلوں" کو نشانہ بنائے گا اور بعد کے مراحل میں دیگر بنیادی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں ہوں گی۔
آسٹریا کی سابق وزیر خارجہ کارین کنائسل نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا، اس پر کنٹرول حاصل کرنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ آئندہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قابض اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ