مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلائی ادارے کے سربراہ اور وزارت مواصلات کے معاون وزیر حسن سالاریہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا پہلا ریڈار سیٹلائٹ راد 1 رونمائی کے آخری مراحل میں ہے، جبکہ مواصلاتی سیٹلائٹ ناہید 3 کے اہم ذیلی نظاموں کی تیاری بھی تیزی سے جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق حسن سالاریہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی خلائی صنعت کے منصوبوں کو تین بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں خلائی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سیٹلائٹس اور لانچ وہیکلز کی تیاری، اور سیٹلائٹ ڈیٹا و تصاویر پر مبنی خدمات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دس سالہ خلائی منصوبے اور ساتویں قومی ترقیاتی پروگرام کے تحت سیٹلائٹ کنٹرول مراکز، لانچنگ بیسز اور جدید آزمائشی لیبارٹریوں کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں سلماس میں ایک نئے مرکز کا افتتاح کیا جا چکا ہے، جبکہ چابہار میں لانچنگ بیس اور دیگر تنصیبات کی تکمیل بھی تیزی سے جاری ہے۔
سالاریہ کے مطابق ملک بھر میں قائم کیے جانے والے سیٹلائٹ کنٹرول مراکز کو ایک مربوط نیٹ ورک کی شکل دی جا رہی ہے تاکہ سیٹلائٹس سے مسلسل رابطہ، ڈیٹا کی وصولی اور تصاویر کے حصول کا عمل زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں متحرک اور موبائل زمینی اسٹیشن بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ خدمات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔
انہوں نے مواصلاتی سیٹلائٹس کے حوالے سے بتایا کہ ناہید 2 کی کامیاب لانچ کی پہلی سالگرہ اگست میں منائی جائے گی، جبکہ اس کا جدید ورژن بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو سیٹلائٹس کے ایک مجموعی نیٹ ورک کی صورت میں خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
حسن سالاریہ نے مزید کہا کہ ناہید 3 کو زمین کے ہم رفتار مدار (GEO) میں خدمات انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور اس کے اہم ذیلی نظام، جن میں ٹرانسپونڈرز اور پروپلشن سسٹم شامل ہیں، اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2026 کے دوران ان منصوبوں کے انجینئرنگ نمونے تیار کر لیے جائیں گے اور آئندہ مہینوں میں ایران اپنی خلائی صنعت سے متعلق مزید اہم منصوبوں کی رونمائی بھی کرے گا۔
آپ کا تبصرہ