مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کی جانب سے رہائشی مکانات کو دھماکوں سے تباہ کیے جانے کے دوران حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے رکن حسن عزالدین نے کہا ہے کہ مزاحمت جنگ بندی کی پابندی کر رہی ہے، تاہم اس کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔
رپورٹ کے مطابق حسن عزالدین نے کہا کہ مزاحمت جنگ بندی کے معاہدے کی پابند ہے، لیکن اس کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان نہ کبھی اسرائیل کی بستی بنے گا اور نہ ہی امریکہ کا زیر سرپرستی ملک۔
حسن عزالدین نے مزید کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے، کیونکہ ایسے مذاکرات کے ذریعے لبنان پر ایسی شرائط اور احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد اسے اسرائیل کی مرضی کے سامنے جھکانا اور اسرائیل کو وہ مقاصد دلانا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔
ادھر لبنانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے الطیری میں متعدد رہائشی مکانات کو دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ