مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ساحلی ریاست ہونے کی حیثیت سے ایران کو نظرانداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ مبہم انتظامات، متوازی بحری راستوں یا ایران کے مفادات اور ملاحظات سے ہٹ کر کیے جانے والے فیصلے محفوظ گزرگاہ کو یقینی نہیں بنا سکتے۔
غریب آبادی نے مزید کہا کہ کسی بھی قابل قبول اور مؤثر فریم ورک کی بنیاد ایران کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ پر ہونی چاہیے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو اس کا نتیجہ متوازی طور پر متعین بحری راستے کی معطلی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ