مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے قائم مقام امام جمعہ نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور مضبوط ہیں اور اگر دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو اسے نئے میزائلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج دشمن صرف فوجی محاذ پر نہیں بلکہ تیل، بینکاری اور تجارت پر پابندیوں، معاشی دباؤ اور فکری جنگ کے ذریعے ایرانی قوم کی مزاحمت توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حجہ الاسلام والمسلمین علی اکبری نے مزید لہا لہ موجودہ حالات میں “بچت اور وسائل کے درست استعمال” کو ایک قومی اور دینی فریضہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی دشمن کی معاشی جنگ کا مؤثر جواب ہے۔
انہوں نے اسراف، فضول خرچی اور تعیش پسندی کو معاشروں کے زوال کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اعتدال، شکرگزاری اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ اور رہبر شہید آیت العظمیٰ سید علی خامنہای دونوں اسراف کو صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ قومی نقصان اور دشمن کی معاشی جنگ میں مدد کے مترادف سمجھتے تھے۔
آپ کا تبصرہ