مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ دو قطری گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر پاکستان کی بندرگاہ قاسم کی طرف روانہ ہوچکے ہیں، تاہم ابھی بھی 10 قطری گیس بردار جہاز اس اہم سمندری راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
الانصاری نے کہا کہ قطر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ ان بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکل آئے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
قطری ترجمان کے مطابق 10 اور 11 مئی کو قطر کے دو گیس بردار جہاز اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جہاز رانی مکمل طور پر معمول پر آ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی قطر کے 10 گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز میں رکے ہوئے ہیں، جبکہ قطر اور دیگر ملکوں کی کئی کشتیوں کو بھی اس آبی گزرگاہ میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کا انتظار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ قطر اس دوران سفارتی رابطوں کو جاری رکھنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے پر زور دے رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ