مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک؛ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی کا مرحلہ گزر رہا ہے۔ اسلامی جمہوری ایران نے داخلی صلاحیتوں اور غیر معمولی استقامت کے سہارے نہ صرف امریکہ اور صہیونی حکومت کے فوجی اتحاد کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ اب سفارتی میز پر مضبوط مذاکراتی پوزیشن کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے پیش کی گئی پانچ شرائط کو زیادہ سے زیادہ مطالبات نہیں بلکہ ایک عادلانہ امن کے فریم ورک اور قومی مفادات کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایران کے مطابق یہ جنگ ابتدا ہی سے نظام کے انہدام اور خطے میں مزاحمتی شناخت کو ختم کرنے کے مقصد سے مسلط کی گئی تھی۔
تازہ دفاعی اور سفارتی سرگرمیوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا روڈ میپ مکمل جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کے ازالے اور آبنائے ہرمز پر حاکمیت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ایران کے مطابق یہ نکات صرف قانونی مطالبات نہیں بلکہ مغربی ایشیا کے سلامتی کے نظام کو نئی شکل دینے کے لیے ایک سیاسی ماڈل کے طور پر بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ان شرائط کو ایران کی جانب سے ناقابل نظرانداز اصول قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں اور اسباب پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
1۔ تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ
تهران کی پہلی اور سب سے واضح شرط یہ ہے کہ تمام محاذوں پر جارحیت کو مکمل اور مستقل طور پر روکا جائے۔ گزشتہ دہائیوں کی دشمنانہ پالیسیوں کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی کبھی بھی جنگ بندی کو ایک مستقل اور پائیدار حالت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ موجودہ حالات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنے مفاد کے لیے نہ جنگ نہ امن کی کیفیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے باوجود صہیونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خفیہ رابطے اور ہم آہنگی جاری ہے۔ اسی طرح جھڑپوں کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ کے مبینہ خفیہ دورۂ ابوظبی کی خبروں نے خطے کے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو اب بھی امریکہ کے پرفریب وعدوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں کہا جارہا ہے کہ اگر کسی جنگ بندی کے ساتھ عملی ضمانتیں نہ ہوں تو وہ صرف حملہ آور قوتوں کو دوبارہ منظم ہونے اور نئی سازش تیار کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔
2۔ پابندیوں کا خاتمہ
اسلامی جمہوری ایران بارہا یہ ثابت کرچکا ہے کہ سخت اور وسیع پابندیاں بھی ایرانی قوم کے استقلال اور خودمختاری کے دفاع کے عزم کو نہیں توڑ سکیں۔ تاہم ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ پابندیوں کو طویل عرصے سے امریکا کی طرف سے ایک معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ایران کے مؤقف کے مطابق جب تک پابندیوں کا مکمل اور قابلِ تصدیق خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک کسی بھی معاہدے یا مذاکرات میں حقیقی اعتماد پیدا نہیں ہوسکتا۔ متعدد بین الاقوامی اداروں اور تجزیاتی مراکز بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے بل بوتے پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک قانونی اور عملی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ اس کے بغیر مذاکرات کو ایران ایک غیر متوازن عمل سمجھتا ہے، جس میں ایک فریق دباؤ برقرار رکھ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
3۔ منجمد اثاثوں کی بحالی
حالیہ مہینوں میں ایرانی وزارتِ خارجہ کی کوششوں کے نتیجے میں جنوبی کوریا میں منجمد ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی کے عمل کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی پیش رفت عموماً زمینی حقائق اور سیاسی دباؤ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جب ملک دفاعی اور علاقائی سطح پر مضبوط پوزیشن میں ہوتا ہے تو مذاکراتی عمل میں بھی اس کی بات زیادہ مؤثر انداز میں سنی جاتی ہے۔
تاہم تہران کا مؤقف یہ ہے کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کوئی رعایت یا سیاسی سودے بازی نہیں بلکہ ایران کا قانونی اور مالی حق ہے۔ یہ رقوم تیل کی فروخت، تجارتی لین دین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل کی گئی تھیں، اس لیے ان تک مکمل، فوری اور بلاشرط رسائی ضروری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کا استعمال ملکی معیشت کو مستحکم کرنے، ادویات اور بنیادی اشیاء کی درآمد، صنعتی منصوبوں اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے کیا جانا ہے۔
ایرانی حکام ماضی کی مثالیں بھی پیش کرتے ہیں، جب امریکا نے عدالتی یا سیاسی جواز کے تحت ایرانی اثاثے ضبط کیے یا ان کی منتقلی میں رکاوٹ ڈالی۔ اسی پس منظر میں محض زبانی یقین دہانیاں یا مشروط معاہدے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ ایک واضح، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی طریقۂ کار طے کیا جانا چاہیے۔
ایران کے نزدیک منجمد رقوم کی بحالی دراصل اعتماد سازی کا عملی امتحان ہے۔ اگر مغربی ممالک واقعی کسی پائیدار معاہدے کے خواہاں ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایرانی قوم کے مالی حقوق کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا اور “اگر، مگر…” کی پالیسی کو ترک کیا جاچکا ہے۔
4۔ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ
ایران کے مطابق مسلط کردہ تیسری جنگ صرف ایک فوجی تصادم نہیں تھی بلکہ ملک کے اہم اور شہری بنیادی ڈھانچوں کے خلاف ایک ہمہ جہت جنگ تھی۔ میناب اور اس کے اطراف میں واقع اسپتالوں اور اسکولوں سے لے کر جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی پس منظر میں تہران نے ان حملوں کے شواہد اور دستاویزات اقوام متحدہ میں جمع کراتے ہوئے ان ممالک سے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے حملہ آور قوتوں کو اپنی سہولیات فراہم کیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کی تفصیلات اور شواہد بین الاقوامی اداروں کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ اس معاملے کو عالمی قانونی فورمز پر اٹھایا جا سکے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور شہری نقصانات کی تلافی کے لیے ذمہ دار فریقوں کو جوابدہ ٹھہرایا جاسکے۔
اس سلسلے میں دو نکات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ پہلا یہ کہ ایران کے مطابق جنگ میں بعض علاقائی ممالک کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ تہران نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ شواہد پیش کیے ہیں۔
دوسرا نکتہ تاریخی انصاف سے متعلق ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی میں مسلط کردہ پہلی جنگ (ایران۔عراق جنگ) کے بعد اگر جارح فریق سے نقصانات کے ازالے کا معاملہ پوری سنجیدگی اور مضبوطی سے آگے بڑھایا جاتا تو شاید مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہوتی۔ اسی تجربے کی بنیاد پر ایران اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ جنگی نقصانات کے ازالے کا معاملہ کسی بھی ممکنہ سیاسی حل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
5۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت
ایران کی پانچ بنیادی شرائط میں سب سے اہم نکتہ وہ ہے جس نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ سب سے زیادہ کشیدگی پیدا کی ہے، یعنی آبنائے ہرمز پر ایران کے حق حاکمیت کو تسلیم کرنا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ابتدا میں امریکی حکام کو یہ توقع تھی کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کر کے اس اہم آبی گذرگاہ پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کیا جاسکے گا۔ تاہم حالیہ متضاد بیانات میں بعض امریکی سیاست دانوں کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ہمارے کنٹرول جیسے جملوں کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس معاملے پر شدید اختلاف اور تناؤ موجود ہے۔
ایران اس شرط پر اصرار کرتے ہوئے چند واضح پیغامات دے رہا ہے۔
پہلا یہ کہ خلیج فارس کی سیکورٹی بیرونی طاقتوں کی موجودگی کے بغیر اور خطے کے ممالک کے تعاون سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔ علاقائی سلامتی کے معاملات میں بیرونی فوجی مداخلت کشیدگی کو بڑھاتی ہے۔
دوسرا پیغام قواعد کار میں تبدیلی سے متعلق ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اب ایسے جہازوں کی آمد و رفت پر سخت نگرانی کی جارہی ہے جو امریکی فوجی اڈوں کے لیے اسلحہ یا فوجی سامان لے کر جاتے ہیں، اور ایرانی افواج اس اہم آبی راستے پر اپنی اسٹریٹجک نگرانی کو مضبوط بناچکی ہیں۔
تیسرا نکتہ سفارتی دباؤ کے ایک مؤثر آلے سے متعلق ہے۔ مختلف سفارتی رابطوں اور علاقائی مذاکرات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر اثر انداز ہونے کی ایران کی صلاحیت بعض معاملات میں واشنگٹن کی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔
کیا امریکہ ایران کی شرائط قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
ایران کی پیش کردہ پانچ نکاتی دستاویز، جسے عوامی اور اسٹریٹجک مطالبات کی واضح عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، وائٹ ہاؤس اور اس کے یورپی اتحادیوں کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان شرائط کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس ردعمل کو بعض مبصرین اس بات کی علامت قرار دیتے ہیں کہ واشنگٹن ابھی تک بدلتی ہوئی علاقائی حقیقت کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں کر سکا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اب ایران صرف ایک پابندیوں کا شکار ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک علاقائی طاقت کے طور پر مذاکرات میں داخل ہو رہا ہے، جو بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی جانب سے ان پانچ بنیادی شرائط پر زور کو اس تنازع میں اصولی حد بندی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے ان مطالبات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ بصورت دیگر، بعض کشیدگی جاری رہنے کا خطرہ برقرار رہے گا، جس کے نتائج خطے کے لیے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ کا تبصرہ