مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی اخبار معاریو نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے اسرائیل میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی توجہ افزودہ یورینیم کے مسئلے کے حل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہے، تاہم اصل تشویش ان امور پر ہے جو اس معاہدے میں شامل نہیں، جن میں ایران کا میزائل پروگرام اور لبنان، غزہ، عراق اور یمن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت شامل ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ ہزاروں نشانہ باز میزائل، حتیٰ کہ بغیر ایٹمی وارہیڈ کے بھی، اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ ہیں۔
معاریو نے مزید لکھا ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کو حتمی انجام نہیں سمجھتا بلکہ اسے وقت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے تحت کام کر رہے ہیں، نہ کہ صہیونی مفادات کے لیے، اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیل پر مسلط جنگ بندی ان کے لیے اندرونی استحکام اور سیاسی فائدے کا ذریعہ ہے، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ ایران پر دباؤ کے ایک اہم ذریعہ کے خاتمے کے مترادف ہے۔
اخبار کے مطابق، ٹرمپ کے دعووں کے فوراً بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات کا کنٹرول اب بھی ایران کے ہاتھ میں ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ٹرمپ کے دور کے بعد اسرائیل کو ایک ایسے ایران کا سامنا ہو سکتا ہے جو پہلے سے زیادہ مضبوط، خوشحال اور مسلح ہو۔
آپ کا تبصرہ