مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جاری تازہ جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بحری آمد و رفت میں کمی آئی ہے اور جہاز رانی کمپنیوں میں آپریشنل خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
سمندری نگرانی کرنے والی کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ بعض ذرائع نے اس راستے سے محدود تعداد میں غیر ایرانی جہازوں کے گزرنے کی اطلاع دی ہے، تاہم Kpler کمپنی کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹریفک اب بھی معمول سے کافی کم ہے۔ کمپنی کے مطابق حالیہ پابندیوں کے ابتدائی دنوں میں صرف چھ جہاز اس راستے سے گزرے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے ممالک کی تیل برآمدات، جو بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہیں، مارچ کے آغاز سے نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔ اندازوں کے مطابق ایران کی تیل برآمدات بھی مارچ میں تقریباً 18 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ رہی ہیں۔
سمندری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آپریشنل ماحول اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کی وجہ سے جہاز مالکان کے فیصلوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ سمندری نقل و حمل کے ماہر سالواتور مرکولیانو نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کے باوجود معمول کی آمد و رفت کی بحالی کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
مزید برآں، بڑی عالمی جہاز رانی کمپنیاں بھی محتاط پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جرمن کمپنی Hapag-Lloyd نے اعلان کیا ہے کہ جب تک خطرات کم نہیں ہوتے اور حالات مستحکم نہیں ہو جاتے، وہ اپنی بحری سروس کو آبنائے ہرمز سے دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔
بحری جائزوں کے مطابق جب تک اس راستے پر آپریشنل اعتماد بحال نہیں ہوتا، آمد و رفت معمول پر جلد بحال ہونے کا امکان کم ہے اور جہاز رانی کمپنیوں کے فیصلے بدستور خطرات کے پیش نظر کیے جاتے رہیں گے۔
آپ کا تبصرہ