مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکی۔صہیونی دشمن سے وابستہ 19 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ملک کے 5 صوبوں سے 137 مختلف اقسام کے ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق عوامی اطلاعات اور خفیہ و عملی اقدامات کے نتیجے میں مازندران، گیلان، لرستان، ہرمزگان اور سیستان و بلوچستان میں یہ کارروائیاں انجام دی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق صوبہ مازندران میں 8 رکنی ایک منظم گروہ کو گرفتار کیا گیا جو سکیورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ان کے ٹھکانے سے 4 جنگی ہتھیار اور بڑی تعداد میں گولہ بارود برآمد ہوا۔
اسی طرح لرستان اور ہرمزگان میں 7 افراد کو گرفتار کیا گیا جو صہیونی ذرائع سے منسلک سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے حساس، عسکری اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔ ان میں سے 6 افراد لرستان جبکہ ایک شخص جزیرہ کیش میں گرفتار ہوا۔
صوبہ گیلان میں بھی 4 رکنی ایک گروہ کو گرفتار کیا گیا جو دہشت گرد تنظیم کے ساتھ منسلک تھا اور اسلحہ، مواصلاتی سہولیات اور محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے میں مصروف تھا۔ اس گروہ پر دیگر صوبوں میں کم از کم 13 افراد کی معاونت کا بھی الزام ہے جن کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
مزید برآں سیستان و بلوچستان میں خفیہ اور ٹیکنیکی کارروائی کے دوران سرحدی علاقوں میں قائم بڑے اسلحہ ڈپو پکڑے گئے، جہاں سے 133 ہلکے اور نیم بھاری ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں راکٹ لانچر، خودکار رائفلیں اور دیگر اسلحہ شامل ہے، جبکہ بڑی مقدار میں گولہ بارود، آنسو گیس اور برقی جھٹکا دینے والے آلات بھی قبضے میں لیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ برآمد ہونے والے ہتھیاروں کا بڑا حصہ امریکہ میں تیار کردہ ہے اور انہیں ایران ان کے اندر اسمگلنگ دشمن کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔
وزارت انٹیلی جنس نے عوام خصوصاً سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو فراہم کی جائے۔
آپ کا تبصرہ