مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے نئے ساز و کار اور ایک نیا پروٹوکول تیار کیا جائے گا۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جو ایران کے ساتھ واقع ہے، اس لیے ایران یہ اجازت نہیں دے گا کہ اس کے دشمن اس راستے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
عراقچی نے کہا کہ اس وقت اس علاقے کے اطراف جنگی صورتحال ہے جس کے باعث کئی ممالک اور بحری جہاز اس راستے سے گزرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ جنگ کے بعد پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا بین الاقوامی پروٹوکول تشکیل دیا جائے جو اس آبی راستے میں محفوظ اور پرامن آمد و رفت کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام ان ممالک کے درمیان طے ہونا چاہیے جو آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف واقع ہیں تاکہ مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط اور مستحکم ہے اور کسی ایک شخصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ صرف اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ