مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان مائو نینگ نے کہا ہے کہ امریکا، جو ایک وسیع جوہری ذخیرے کا حامل ملک ہے، اسے جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں امید ہے امریکا عالمی برادری کے مؤقف کو مدنظر رکھے گا اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق امور پر روس کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔
امریکا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت تسلیم شدہ پانچ جوہری طاقتوں میں شامل ہے۔
نیو اسٹارٹ کی شق ششم کے مطابق امریکا اس بات کا پابند ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ جوہری اسلحہ کی دوڑ کے خاتمے اور مکمل تخفیف اسلحہ کے حصول کے لیے مذاکرات کرے۔
امریکا نے ماضی میں اپنی ذمہ داریوں کے تحت سابق سوویت یونین اور بعد ازاں روس کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات میں حصہ لیا اور اسٹریٹجک جوہری ذخائر میں کمی کے لیے متعدد معاہدوں پر عمل درآمد کیا۔
ان اہم معاہدوں میں نیو اسٹارٹ بھی شامل ہے، جو 2010 میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے تحت اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی تعداد کی حد مقرر کی گئی تھی۔
تاہم رپورٹ کے مطابق امریکا نے بیک وقت اپنے جوہری ذخیرے کی جدید کاری کے پروگرام جاری رکھے اور اپنی ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا۔
آپ کا تبصرہ