24 فروری، 2026، 8:10 AM

شہید مہدوی جنگی جہاز کا پہلا طویل بحری مشن مکمل، ایرانی سمندری حدود میں واپسی

شہید مہدوی جنگی جہاز کا پہلا طویل بحری مشن مکمل، ایرانی سمندری حدود میں واپسی

سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کا مقامی ساختہ جنگی جہاز شہید مہدوی 57 روزہ عالمی سفر اور برکس ممالک کی مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے زیر انتظام سمندر پار آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا یہ کثیر المقاصد جہاز ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوگیا ہے۔ اس نے جنوبی افریقہ کے ساحل کے قریب برکس ممالک کی بحری مشقوں میں حصہ لیا، جسے ایران کی علاقائی حدود سے باہر بحری سرگرمیوں کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بحریہ کے کمانڈر علیرضا تنگسیری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق مضبوط عزم کے ساتھ عالمی سمندروں میں پیش قدمی کے لیے تیار ہیں۔

شہید مہدوی بحری جہاز تقریباً 10 ہزار 700 بحری میل، یعنی لگ بھگ 18 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے لوٹا، جو ایران کے 103ویں بحری بیڑے کا حصہ تھا۔ اس بیڑے میں فوج کا ڈسٹرائر شہید نقدی اور اگلے مورچے کا بحری اڈہ جہاز مکران بھی شامل تھے۔

یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جنوبی نصف کرے میں پہلی باضابطہ موجودگی تھی اور اسی کے ساتھ بحر اوقیانوس میں اس کی پہلی عملی گشت بھی۔ مئی 2024 میں یہ جہاز خط استوا عبور کر کے جنوبی نصف کرے میں داخل ہوا تھا۔

2100 ٹن وزنی، 240 میٹر طویل اور 27 میٹر چوڑا یہ جہاز مارچ 2023 میں بحری بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسے تین جہتی مرحلہ وار ریڈار نظام، سمندر سے سمندر اور سمندر سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جدید مواصلاتی نظام اور الیکٹرانک جنگی سازوسامان سے لیس کیا گیا ہے۔

یہ جہاز بڑی تعداد میں نگرانی اور حملہ آور ڈرون، مختلف اقسام کے حملہ آور ہیلی کاپٹر اور تیز رفتار کشتیاں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کروز میزائل لانچ نظام تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی استعداد رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے تیرتا ہوا بحری اڈہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

News ID 1938227

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha