مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 3000 داعش قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید منتقلی کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بغداد دیگر ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ ان کے شہریوں کو، جو داعش کے قیدیوں میں شامل ہیں، واپس بھیجا جا سکے، تاہم یورپی ممالک اس معاملے میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
فؤاد حسین نے خبردار کیا کہ شام میں داعش کی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراق کو منتقل شدہ قیدیوں کے معاملات نمٹانے کے لیے مزید مالی امداد درکار ہوگی۔
امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ 2026 کے آخر تک انخلا کے طے شدہ منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ادھر ذرائع کے مطابق قسد فورسز کی پسپائی کے بعد حسکہ کے کیمپ الہول سے داعش کے غیر ملکی ارکان کے بیشتر خاندانوں کا انخلا ہو چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ