مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں کے غازی شاہ امام روڈ پر امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش حملہ آور کو روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، لاشوں اور زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے31 افراد شہید اور 169 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی، وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
عینی شاہد کے مطابق خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر فائرنگ کر کے گارڈز کو زخمی کیا اور پھر مسجد کی طرف بھاگا اور مسجد کے دروازے پر. جا کر خود کو. دھماکے سے اڑا دیا، دھماکے کے وقت مومنین نماز. کی دوسری رکعت ادا کر رہے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔
زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی 23 افراد کو پمز اور 13 کو پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
پاکستانی ترجمان وزارت صحت کے مطابق وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری انتظامات کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق ڈاکٹرز نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
افسوس ناک واقعے میں زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا کی۔
صدرِ زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جبکہ اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔
وزیرِ اعظم نے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم ے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور سربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے افسوسناک دھماکے اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر میں دلی طور پر نہایت غمزدہ اور رنجیدہ ہوں۔
علامہ ناصرعباس نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائی نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں سنگین ناکامی کا ثبوت ہے۔
آپ کا تبصرہ