مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے دفتر جنیوا میں ایران کے مستقل مشن نے انسانی حقوق کونسل کی ایران سے متعلق حالیہ قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی، جانبدارانہ اور کالعدم قرار دیا ہے۔
ایرانی مشن نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ قرارداد مغربی دشمن ممالک کی جانب سے تیار کی گئی ہے اور اس کا انسانی حقوق کے تحفظ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا مقصد ایران پر سیاسی دباؤ ڈالنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہی ممالک دہائیوں سے ایرانی عوام پر غیر قانونی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں اور گزشتہ سال صہیونی رژیم اور امریکہ کی جانب سے کی گئی جارحیت، جس میں ہزاروں ایرانی شہری شہید یا زخمی ہوئے، اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔
ایرانی مشن کے مطابق، ایران ایک مضبوط اور خودمختار عدالتی و قانونی نظام رکھتا ہے اور انسانی حقوق کے نام پر کسی بھی سیاسی یا بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر حالیہ واقعات کی وجوہات کا جامع اور سنجیدہ جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ تمام گرفتار افراد کے مقدمات قانون کے مطابق، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں نمٹائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس میں ایران کے خلاف قرارداد 25 ووٹوں سے منظور کی گئی، جبکہ 7 ممالک نے اس کی مخالفت کی اور ۱۴ ممالک غیر حاضر رہے۔
آپ کا تبصرہ