مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نمائندے نے ایران کے خلاف امتیازی اور جانبدرانہ رویے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت کاری کا راستہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے اور اسلام آباد ایسے اقدامات کے خلاف ہے جو ایران میں حالات کو مزید خراب کریں۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستانی مندوب نے حالیہ بدامنیوں اور دہشت گرد کارروائیوں کے تناظر میں ایران کے بارے میں ہونے والی بحث کے دوران کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایران کی حکومت اور عوام کا دوست رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے اس ہنگامی اجلاس کو ایک سیاسی اور جانبدارانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نشستیں ایران میں انتشار اور بدامنی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہیں۔ پاکستانی مندوب نے ایران میں سرکاری اداروں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
پاکستانی نمائندے نے واضح کیا کہ اسلام آباد ایران میں حالات کے معمول پر آنے کا خیر مقدم کرتا ہے اور انسانی حقوق کونسل کو یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ درحقیقت کیا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں نے انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سفارت کاری کا موقع کبھی ضائع نہیں ہونا چاہیے اور ایران کے خلاف دوہرے معیار پر مبنی رویّے نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ عملی طور پر حالات کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں۔
اجلاس میں چین کے نمائندے نے بھی کہا کہ ایران میں حالیہ واقعات داخلی معاملہ ہے اور بیجنگ انسانی حقوق کونسل کے اس ہنگامی اجلاس کی حمایت نہیں کرتا۔
اس موقع پر ایران کے مستقل مندوب علی بحرینی نے اجلاس کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم ان مظاہروں کو منظم تشدد، دہشت گرد حملوں اور بدامنی کی لہر میں تبدیل کر دیا گیا۔
آپ کا تبصرہ