21 جنوری، 2026، 6:17 PM

ایران پر مزید پابندیاں، داخلی انتشار اور عدم استحکام اصل ہدف، امریکی وزیر خزانہ

ایران پر مزید پابندیاں، داخلی انتشار اور عدم استحکام اصل ہدف، امریکی وزیر خزانہ

امریکی وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کا مقصد ملک کو انتشار اور عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور عوامی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اسکاٹ بیسنٹ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں دراصل اقتصادی اسٹیٹ کرافٹ کا حصہ ہیں، جس نے حالیہ مہینوں میں ایران میں ہونے والے ہنگاموں میں اہم کردار ادا کیا۔

پریس ٹی وی کے مطابق، بیسنٹ نے کہا کہ یہ حکمت عملی کامیاب رہی کیونکہ دسمبر میں ایران کی معیشت بیٹھ گئی۔ ہم نے دیکھا کہ ایک بڑا بینک دیوالیہ ہوگیا، مرکزی بینک نے نوٹ چھاپنا شروع کر دیے، ڈالر کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور ایران درآمدات حاصل کرنے سے قاصر ہوگیا، یہی وجہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران بھر میں معاشی مشکلات کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج بعد ازاں تشدد میں بدل گئے، جس کے پس منظر میں امریکی اور صہیونی حکام کے اشتعال انگیز بیانات نے توڑ پھوڑ اور بدامنی کو ہوا دی۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ہنگامے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد شدت اختیار کر گئے تھے، جن میں انہوں نے مظاہرین کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں ایران کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

انٹیلی جنس حکام کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ شرپسند عناصر پرامن احتجاج کو ہائی جیک کر کے ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے تھے، تاکہ بیرونی جارحیت کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

واضح رہے کہ امریکہ کئی دہائیوں سے ایران کے خلاف سخت معاشی پابندیاں نافذ کیے ہوئے ہے، جن میں بینکاری، توانائی اور تجارت کے شعبے خاص طور پر نشانہ بنے ہیں۔

News ID 1937816

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha