20 جنوری، 2026، 9:21 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کی بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کی حکمتِ عملی؛ ٹرمپ نے پسپائی کیوں اختیار کی؟

ایران کی بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کی حکمتِ عملی؛ ٹرمپ نے پسپائی کیوں اختیار کی؟

ایسے وقت میں جب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنا پڑا، تہران نے بھی پانچ مؤثر حکمت عملیوں کے ذریعے دشمنوں کی جانب سے داخلی بدامنی کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے فیصلہ ساز اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم ایک غیرمحسوب اور خطرناک جُوا ہے، بلکہ بعض امریکی اسٹریٹجک ماہرین نے اسے عملی اعتبار سے ایک ناممکن آپشن قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا نیٹ ورک المیادین کے مطابق، ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملہ فوری طور پر خلیج فارس اور بحیرۂ احمر میں تیل اور گیس کی ترسیل کے تعطل کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے انہدام اور صہیونی رژیم کو وجودی نوعیت کے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حتیٰ اگر ایران کی فوجی اور انٹیلیجنس صلاحیتوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے، تب بھی اسلامی جمہوریہ ایران میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا نفوذ کی کوشش کو لاکھوں داخلی حامیوں کے سخت ردعمل کا سامنا ہوگا۔ یہ عوامی حمایت اس قدر مضبوط ہے کہ فضائی حملوں حتیٰ کہ زمینی دراندازی کے ذریعے بھی اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔

اسی بنا پر ایران کے خلاف تباہ کن اور فیصلہ کن حملے کا نظریہ ناقابل عمل ہے، اور زیادہ سے زیادہ جو کچھ امریکی حکومت کر سکتی ہے وہ محدود، نمائشی اور میڈیا محور حملے ہیں، جن کا میدان جنگ یا طاقت کے توازن پر کوئی حقیقی اثر نہیں پڑتا۔

المیادین لکھتا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ہمسایہ ممالک، بالخصوص عرب ممالک، بھی شدید تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کی معیشت کا واحد انحصار تیل کی برآمدات پر ہے، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ خطے میں جنگ چھڑنے کی صورت میں ان کا اقتصادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، صہیونی رژیم بھی ایران کے ساتھ 12 روزہ براہ راست جنگ کے تلخ تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اس کا داخلی محاذ کسی ہمہ گیر جنگ کے نتائج برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ان زمینی حقائق کی بنیاد پر، امریکہ اب بھی ایرانی قوم کے خلاف اقتصادی محاصرہ، تخریبی عناصر اور علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کے ذریعے ایرانی نظام کے سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مناسب وقت پر وار کیا جا سکے۔

بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تہران کی حکمت عملی

المیادین کے مطابق، حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو کثیر الجہتی بحرانوں کے کنٹرول میں غیر معمولی مہارت حاصل ہے اور اس نے پانچ بنیادی حکمت عملیوں کے ذریعے امریکی سازش کو ناکام بنا دیا۔

اوّل: اقتصادی و سماجی صورت حال پر قابو

​​​​​یہ اقدام عوامی اطمینان کے حصول کے لیے براہ راست مالی معاونت، مہنگائی میں اضافے کا باعث بننے والے اقتصادی فیصلوں کی منسوخی اور قیمتوں کے کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔ ان اقدامات سے وہ عوامل ختم ہو گئے جو بازاروں میں غم و غصے اور بدامنی کا سبب بن رہے تھے، یوں فسادات اپنی ایک اہم محرک سے محروم ہو گئیں۔

دوم: مظاہرین اور تخریب کاروں کے درمیان فرق

ایرانی حکام نے دانشمندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں موجود جائز اور قانونی مطالبات رکھنے والے مظاہرین اور بعد میں منظم تشدد اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث عناصر کے درمیان واضح فرق قائم کی۔

سوم: سکیورٹی بحران کا عقلی اور محتاط انتظام

ایرانی سکیورٹی اداروں نے طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا اور ممکنہ حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ خونریز تصادم سے بچا جا سکے اور دشمن کو نفسیاتی جنگ کے لیے مواد فراہم نہ ہو۔

چہارم: انٹیلیجنس سرگرمیاں

تخریبی عناصر، اشتعال انگیزی پھیلانے والوں اور منظم نیٹ ورکس کی مسلسل انٹیلیجنس نگرانی کی گئی اور انہیں نہایت دقت کے ساتھ ناکارہ بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ملک میں ہیرو یا آئیدیل میں تبدیل نہ ہو سکیں۔

پنجم: داخلی محاذ پر وحدت کا فروغ

​​​​​​اسلامی جمہوریہ ایران نے معاشرتی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ فسادات سیاسی یا عوامی تقسیم کا سبب نہ بن سکیں۔ یوں عوام کو تقسیم کرنے، ملک میں طویل المدت بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

News ID 1937794

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha