مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا ہے: میں نے ابھی مینیسوٹا میں ایک چرچ پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور باغیوں کے حملے کی ویڈیوز دیکھیں۔ یہ لوگ پیشہ ور ہیں! عام لوگ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔ انہیں مخصوص انداز میں نعرے لگانے، شور مچانے اور ہنگامہ کرنے کی تربیت دی گئی ہے، اور وہ بالکل یہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عناصر شرپسند ہیں، جنہیں یا تو جیل میں ڈال دینا چاہیے یا پھر ملک سے نکال دینا چاہیے۔
امریکی صدر نے مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور کانگریس کی رکن الہان عمر پر مظاہرین کو اکسانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے جسے جانا چاہیے وہ والز ہے۔ اسی طرح الہان عمر، جو ایک دھوکے باز سیاست دان ہے، جس نے کبھی سرکاری ملازمت کے سوا کوئی کام نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اس کی دولت 30 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، اسے بھی جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان بدعنوان سیاست دانوں کی صورتحال کی تحقیقات کریں، ابھی اور فوراً!
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب سینٹ پال شہر میں مظاہرین نے ایک چرچ پر دھاوا بولا۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ ٹرمپ حکومت کے حامی ایک پادری کو چرچ سے نکالا جائے، جبکہ انہوں نے اس شہر سے امیگریشن اہلکاروں کے انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔
امریکی امیگریشن پولیس کے ہاتھوں ایک مہاجر خاتون، رینی گوڈ، کی ہلاکت کے بعد پورے امریکہ میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور عوام کی جانب سے امیگریشن اہلکاروں کو نکالنے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر بارہا ایران کے بارے میں مداخلت آمیز بیانات دیتے ہوئے وہاں کے حالات پر تبصرہ کرتے رہے اور ایران میں ہونے والی بدامنی کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے رہے۔
آپ کا تبصرہ