مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے تنازع کو صلح نوبل انعام سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے نوبل انعام سے محروم کیا ہے تو اب صلح کے بارے میں بھی نہیں سوچوں گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کے وزیراعظم کو ایک خط میں، ٹرمپ نے واضح کیا کہ چونکہ انھیں یہ انعام نہیں ملا، اس لیے وہ اب خارجہ پالیسی میں صلح اور امن کا راستہ انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہے۔
ناروے کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ صلح اور امن و امان کے لئے میری متعدد اقدامات کے باوجود مجھے صلح نوبل انعام سے نہیں نوازا گیا اس لئے بہت مایوس ہوگیا ہوں۔ متعدد امریکی سفیروں کے بقول یہ خط مختکگ یورپی حکومتوں کو بھی بھیجا گیا۔
ٹرمپ نے خط میں لکھا ہے کہ انھوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائی ہیں لیکن پھر بھی انھیں نوبل انعام نہیں دیا گیا۔ اس فیصلے کے نتائج ضرور ظاہر ہوں گے۔
امریکی صدر نے خط میں کہا کہ وہ اب امن پر مبنی پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امن اب بھی ایک مقصد ہے، لیکن اب وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ امن کیسے قائم ہوگی بلکہ اس بات پر توجہ مرکوز کرے گا کہ امریکہ کے لیے کیا بہتر ہے۔ اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
ٹرمپ نے اس خط میں گرینلینڈ پر ڈنمارک کی ملکیت کو چیلنج کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس ملکیت کی کوئی قابل اعتماد سند نہیں ہے۔
انھوں نے نیٹو سے امریکی مفاد کے تحفظ کے لئے نیٹو کی مداخلت کا مطالبہ کیا، اور تاکید کی کہ دنیا کی سلامتی صرف تب یقینی ہوگی جب امریکہ گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ